بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 صفر 1443ھ 24 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے دوسری سورت شروع کرنے کے بعد واپس سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم


سوال

نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بھول کر کسی اور سورت کی تلاوت شروع کی، فوراً یاد آنے پر فاتحہ شروع کردی، کیا سجدہ سہو ہوگا؟

جواب

اگر  کسی شخص نے نماز  میں سورہ  فاتحہ سے پہلے بھول سے کوئی دوسری سورت شروع کردی، لیکن یاد آنے پر فورًا  سورۂ  فاتحہ شروع کردی تو  دیکھا جائے گا کہ اس نے سورہ فاتحہ سے پہلے دوسری سورت سے جتنی قرأت کی ہے  اس کی وجہ سے ایک رکن کی ادائیگی کے بقدر ( یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر) تاخیر لازم آئی ہے یا نہیں، اگر ایک رکن کی ادائیگی کے بقدر ( یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر) تاخیر ہونے   کے بعد یاد آنے پر سورت فاتحہ پڑھنی شروع کی ہو تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم ہوگا، لیکن اگر رکن کی ادائیگی کے بقدرتاخیر ہونے سے پہلے ہی سورہ فاتحہ شروع کردی تو پھر سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ یہ حکم فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ تمام نمازوں کی ہر رکعت کے بارے میں ہے۔ فرض کی تیسری یا چوتھی رکعت میں فاتحہ کی جگہ بھولے سے سورت یا آیت پڑھ لی تو سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1/ 126):

’’ ومن سها عن فاتحة الكتاب في الأولى أو في الثانية وتذكر بعد ما قرأ بعض السورة يعود فيقرأ بالفاتحة ثم بالسورة قال الفقيه أبو الليث: يلزمه سجود السهو وإن كان قرأ حرفا من السورة وكذلك إذا تذكر بعد الفراغ من السورة أو في الركوع أو بعد ما رفع رأسه من الركوع فإنه يأتي بالفاتحة ثم يعيد السورة ثم يسجد للسهو۔‘‘

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 459)

’’ (وتقديم الفاتحة) على كل (السورة) وكذا ترك تكريرها قبل سورة الأوليين.

(قوله: على كل السورة) حتى قالوا لو قرأ حرفا من السورة ساهيا ثم تذكر يقرأ الفاتحة ثم السورة، ويلزمه سجود السهو بحر، وهل المراد بالحرف حقيقته أو الكلمة، يراجع ثم رأيت في سهو البحر قال بعد ما مر: وقيده في فتح القدير بأن يكون مقدار ما يتأدى به ركن. اهـ.

أي لأن الظاهر أن العلة هي تأخير الابتداء بالفاتحة والتأخير اليسير، وهو ما دون ركن معفو عنه تأمل. ثم رأيت صاحب الحلية أيد ما بحثه شيخه في الفتح من القيد المذكور بما ذكروه من الزيادة على التشهد في القعدة الأولى الموجبة للسهو بسبب تأخير القيام عن محله، وأن غير واحد من المشايخ قدرها بمقدار أداء ركن۔‘‘

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 625):

’’ (و) يفسدها (أداء ركن) حقيقة اتفاقا (أو تمكنه) منه بسنة، وهو قدر ثلاث تسبيحات۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں