بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نمازمیں قہقہہ لگانے کاحکم


سوال

نماز میں قہقہہ لگانے سے نماز اور وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں؟

جواب

حنفی مذہب میں نمازمیں قہقہہ لگا کر ہنسنےسے وضواورنمازدونوں ٹوٹ جاتے ہیں بشرطیکہ قہقہہ لگانےوالابالغ ہوبیدارہو اورنمازرکوع اورسجدہ والی ہو ۔

فتاوی ھندیہ میں ہے:

القہقہۃ فی کل صلوۃ فیہا رکوع وسجود تنقض الصلوۃ والوضوءعندنا سواء کانت عمدااونسیانا

ولو قهقه في سجدة التلاوة أو في صلاة الجنازة تبطل ما كان فيها ولا تنقض الطهارة. كذا في فتاوى قاضي خان.

والقهقهة من الصبي في حال الصلاة لا تنقض الوضوء كذا في المحيط.

ولو قهقه نائما في الصلاة فالصحيح أنها لا تبطل الوضوء ولا الصلاة. كذا في التبيين

(ھندیہ، ج:1، ص:12، ط: دارالفکر بیروت)

ہدایہ میں ہے:

والقهقهة في كل صلاة ذات ركوع وسجود " والقياس أنها لا تنقض وهو قول الشافعي رحمه الله تعالى لأنه ليس بخارج نجس ولهذا لم يكن حدثا في صلاة الجنازة وسجدة التلاوة وخارج الصلاة ولنا قوله عليه الصلاة والسلام:" ألا من ضحك منكم قهقهة فليعد الوضوء والصلاة جميعا" وبمثله يترك القياس والأثر ورد في صلاة مطلقة فيقتصر عليها

(ھدایہ ج:1ص:18ط:داراحیاء التراث العربی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408100138

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں