بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نماز میں پڑھی جانے والی مأثورہ دعائیں


سوال

نماز میں پڑھی جانے والی دعائیں کون سی ہیں اور کہاں کہاں پڑھی جاتی ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قعدہ اخیرہ میں درود شریف کے بعد تمام نمازوں (فرض، سنت وغیرہ) میں قرآن و حدیث میں منقول دعائیں پڑھی جاسکتی ہیں، نیز ایک سے زیادہ دعائیں  پڑھنا یا ایک دعاءکو تکرار کے ساتھ پڑھنا بھی درست ہے۔

البتہ قومہ، جلسہ، اور سجدہ وغیرہ کی دعاؤں کے لیے    بہتر یہ ہے کہ یہ دعائیں نفل نماز میں پڑھی  جائیں، تاہم  اگر  فرض نماز  (کسی عذر کی وجہ سے) انفرادی طورپر پڑھی جائے  یا اگرکوئی شخص  مقتدی ہو اور امام جلسے میں اتنی دیر بیٹھے کہ دعاء پڑھی جاسکتی ہو تو بھی یہ دعائیں آدمی پڑھ سکتاہے ۔

ذیل میں چند دعاؤں كا ذكر كيا جاتا هے،ان کے علاوہ بھی قرآن و حدیث سے ثابت دعائیں پڑھی جاسکتی ہیں:

 رکوع میں "اللَّهُمَّ لَك رَكَعْت وَبِك آمَنْت وَلَك أَسْلَمْت خَشَعَ لَك سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي"  قومہ میں ( رکوع سے کھڑے ہوجانے کے بعد )  " رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ " کے بعد " حَمْداً کَثِیْراً مُبَارَکاً فِیْه "  اور بعض روایات میں یہ اضافہ بھی منقول ہے"مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْت مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَك عَبْدٌ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْت وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْت، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْك الْجَدُّ"،   سجدہ میں "اللَّهُمَّ لَك سَجَدْت وَبِك آمَنْت وَلَك أَسْلَمْت، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْت مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَك عَبْدٌ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْت وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْت، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْك الْجَدُّ"اور جلسہ میں ( یعنی دونوں سجدوں کے درمیان) "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي."

قعدہ میں"رَبَّنا ‌لا ‌تُؤاخِذْنا إِنْ نَسِينا أَوْ أَخْطَأْنا رَبَّنا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنا إِصْراً كَما حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنا رَبَّنا وَلا تُحَمِّلْنا مَا لا طاقَةَ لَنا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنا وَارْحَمْنا أَنْتَ مَوْلانا فَانْصُرْنا عَلَى الْقَوْمِ الْكافِرِينَ."

اسی طرح "رَبَّنَا ‌لَا ‌تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا، وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ".

اور "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ ‌فِتْنَةِ ‌الْمَحْيَا ‌وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ .»"(ان جیسی اور بھی دعائیں) پڑھی جاسکتی ہیں۔

البحرالرائق میں ہے :

"(قوله: ودعا بما يشبه ألفاظ القرآن والسنة لا كلام الناس) أي بالدعاء الموجود في القرآن، ولم يردحقيقة المشابهة ؛ إذ القرآن معجز لا يشابهه شيء، ولكن أطلقها ؛ لإرادته نفس الدعاء ، لا قراء ة القرآن، مثل: ﴿ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا ﴾ [البقرة: 286] ﴿ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبِنَا ﴾ [آل عمران: 8] ﴿ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ ﴾ [نوح: 28] ﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ﴾ [البقرة: 201] إلى آخر كل من الآيات، وقوله: والسنة، يجوز نصبه عطفاً على ألفاظ أي دعا بما يشبه ألفاظ السنة، وهي الأدعية المأثورة، ومن أحسنها ما في صحيح مسلم: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال»، ويجوز جره عطفاً على القرآن أو ما أي دعا بما يشبه ألفاظ السنة أو دعا بالسنة، وقد تقدم أن الدعاء آخرها سنة ؛ لحديث ابن مسعود: «ثم ليتخير أحدكم من الدعاء أعجبه إليه فيدعو به»".

(‌‌آداب الصلاة،ج:1،ص:349،ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاویٰ شامی میں ہے :

"ولیس بینهما ذکر مسنون ... وماورد محمول علی النفل ...

ثم الحمل المذكور صرح به المشايخ في الوارد في الركوع والسجود، وصرح به في الحلية في الوارد في القومة والجلسة وقال على أنه إن ثبت في المكتوبة فليكن في حالة الانفراد، أو الجماعة والمأمومون محصورون لا يتثقلون بذلك".

(‌‌كتاب الصلاة،‌‌باب صفة الصلاة،ج:1،ص:206،505،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403101425

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں