بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورہ فاتحہ میں أَنَعَمتَ (بفتح النون) پڑھنے کی صورت میں نماز کا حکم


سوال

اگر کسی نے نماز میں سورۂ  فاتحہ میں"اَنْعَمْتَ"کی جگہ" اَنَعَمْتَ" (بفتح النون) پڑھ دیا تو کیا نماز ادا ہو جاۓ گی یا نہیں ؟ کیا اس سے معنی میں تغیرِ فاحش آجاۓ گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  جان بوجھ کر "أَنْعَمْتَ"کی جگہ" أَ نَعَمْتَ"(بفتح النون)  پڑھاگیا ہوتومعنی میں استفہام پیدا ہونے کی وجہ سےاگر  اسی رکعت میں اس کی اصلاح نہیں کی گئی تو  نماز فاسد ہوجاۓ گی اور اس نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔

لیکن اگر  مخارج و صفات کے بارے میں جہالت اور نادانی کے باعث  "نون"پر قلقلہ کیا گیا،جس سے ایسا معلوم ہوا کہ"أَنْعَمْتَ"کی جگہ  "أَ نَعَمْتَ"(بفتح النون)پڑھا گیا ہے،تو  اگرچہ اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی، لیکن درست تلاوت پر قدرت ہوتے ہوئے اور علم ہوتے ہوئے ایسی غلطی کی تو نماز بکراہت ادا ہوجاۓ گی، اور تلاوت کے اجر میں کمی ہوگی،لہٰذا  اگر نماز میں ایسی غلطی کا احساس ہوجائے تو اس آیت یا ان الفاظ کی نماز میں ہی تصحیح کرنی چاہیے، اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ صحت وتجوید کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کا اہتمام کرے،اور اگر کسی کی تجوید یا ادائیگی صحیح نہ ہو تو وہ کسی مجود قاری سے تجوید  و صحتِ ادائیگی کی مشق کرے۔

حاشیۂ طحطاوی میں ہے:

"الخطأ في الإعراب ويدخل فيه ‌تخفيف ‌المشدد وعكسه وقصر الممدود وعكسه وفك المدغم وعكسه فإن لم يتغير به المعنى لا تفسد به صلاته بالإجماع كما في المضمرات وإذا تغير المعنى نحو أن يقرأ وإذ ابتلى ابراهيم ربه برفع ابراهيم ونصب ربه فالصحيح عنهما الفساد وعلى قياس قول أبي يوسف لا تفسد لأنه لا يعتبر الإعراب وبه يفتي وأجمع المتأخرون كمحمد بن مقاتل ومحمد بن سلام واسمعيل الزاهد وأبي بكر سعيد البلخي والهندواني وابن الفضل والحلواني على أن الخطأ في الإعراب لا يفسد مطلقا وإن كان مما اعتقاده كفر لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب وفي اختيار الصواب في الإعراب إيقاع الناس في الحرج وهو مرفوع شرعا وعلى هذا مشى في الخلاصة فقال: وفي النوازل لا تفسد في الكل وبه يفتى وينبغي ان يكون هذا فيما إذا كان خطأ أو غلطا وهو لا يعلم أو تعمد ذلك مع ما لا يغير المعنى كثيرا كنصب الرحمن في قوله تعالى: {الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى} أما لو تعمد مع ما يغير المعنى كثيرا أو يكون اعتقاده كفرا فالفساد حينئذ أقل الأحوال والمفتى به قول أبي يوسف."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، ص:339،ط:دارالكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ذكر في الفوائد لو قرأ في الصلاة بخطأ فاحش ‌ثم ‌رجع ‌وقرأ صحيحا قال عندي صلاته جائزة وكذلك الإعراب."

(كتاب الصلاة، الباب الرابع في صفة الصلاة، الفصل الأول في فرائض الصلاة، ج:1، ص:82، ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100373

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں