بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں سورتوں کی ترتیب کا حکم


سوال

اگرعشاء کی پہلی رکعت میں سورہ فلق اور دوسری رکعت میں سورہ ناس پڑھی تو اس کے بعد جو سنتیں اور نفل اور وتر ہیں ان میں سورت کی ترتیب کیا لازمی ہے؟ اگر لازمی ہے تو سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ لی ہوتو دوسری سورت  پڑھنا کیسا ہے؟ جیسا کہ سورہ فلق  فرض رکعت میں پڑھ دی اور جو سنت، نفل ،وتر بعد میں ہیں، ان میں  سورہ عصر یا سورہ کوثر پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ سورتوں کی ترتیب کی رعایت رکھنا ہر ایک  نماز میں مسنون ہے، دو نمازوں کے متعلق یہ حکم نہیں۔ مثلا فرض نماز اگر پڑھ رہے ہوں تو اس کے اندر پہلی دوسری رکعت میں سورتوں کی ترتیب کا لحاظ رکھنا مسنون ہے، اس فرض کے بعد پڑھی جانے والی سنن و وتر چونکہ مستقل (الگ تحریمہ کے ساتھ ادا کی جانے والی )نماز یں ہیں ،لہٰذا  اس میں فرائض میں پڑھی گئی قراءت کاکوئی تعلق نہیں، لہٰذا اس میں فرض نماز سے قطع نظر کسی بھی سورت کی تلاوت کر سکتے ہیں(جو فرائض  میں پڑھی گئی سورتوں  سےچاہے مقدم ہوں یا مؤخریا وہی ہوں)۔ 

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و يكره الفصل بسورة قصيرة وأن يقرأ منكوسًا إلا إذا ختم فيقرأ من البقرة. وفي القنية قرأ في الأولى الكافرون وفي الثانية - ألم تر - أو - تبت - ثم ذكر يتم وقيل: يقطع ويبدأ."

(قوله: وأن يقرأ منكوسا) بأن يقرأ في الثانية سورة أعلى مما قرأ في الأولى؛ لأن ترتيب السور في القراءة من واجبات التلاوة؛ وإنما جوز للصغار تسهيلا لضرورة التعليم ط."

(الدرالمختار مع رد المحتار، كتاب الصلاة، فصل في القراءة، فروع يجب الاستماع للقراءة مطلقا، 547،546/1، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144511102678

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں