بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں رفع الیدین کرنا چاہیے یا نہیں؟


سوال

نماز میں  رفع ِیدین کرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ رفعِ یدین سے مراد نماز کی حالت میں تکبیر کہتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو تک اٹھانا ہے،تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رکوع میں جاتے ہوۓ،رکوع سے اٹھتے ہوۓ،سجدے میں جاتے وقت  ،سجدے سے اُٹھتے وقت اور تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنے اور نہ کرنے میں اختلاف کفر اور اسلام یا جواز و عدم جواز کا نہیں، بلکہ یہ اختلاف صرف افضلیت کا ہے اور احادیث صحیحہ میں دونوں طرح نماز پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ  ابتداۓ اسلام میں بعض ایسے امور بھی نماز میں مشروع تھے جو سکون اور خشوع فی الصلاۃ کے منافی تھے،جیسے کہ سلام کا جواب دینا،سلام کرنا،گردن اٹھا کر دائیں بائیں دیکھنا وغیرہ،مگر بعد میں جب نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم آیا تو یہ تمام امور بتدریج منسوخ ہوگئے،اور یہی حال رفع یدین کا بھی ہے،خود حضور ﷺ ابتداء میں  تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ رکوع میں جاتے ہوۓ،رکوع سے اٹھتے ہوۓ،سجدے میں جاتے وقت  ،سجدے سے اُٹھتے وقت اور تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت بھی رفعِ یدین فرماتے تھے،چناں چہ سننِ نسائی میں ہے:

"عن مالك بن الحويرث أن نبي الله صلى الله عليه وسلم «‌كان ‌إذا ‌دخل ‌في ‌الصلاة رفع يديه، وإذا ركع فعل مثل ذلك، وإذا رفع رأسه من الركوع فعل مثل ذلك، وإذا رفع رأسه من السجود، فعل مثل ذلك كله»، يعني: رفع يديه."

(كتاب الصلاة،باب رفع اليدين عند الرفع من السجدة الأولى،231/2،ط:المکتبة التجارية الكبري)

   پھر جیسے جیسے نماز میں سکون کا حکم آتا گیا تو  صرف   تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ بقیہ تمام مواضع میں تدریجاًرفعِ یدین بھی ترک ہو  گیا، یہاں تک کہ اخیر عمر میں آپ ﷺ سے ایسی نمازیں ثابت ہیں، جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ  آپ ﷺ نے کہیں بھی رفع یدین نہیں  فرمایا ۔

 پھرحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد  یہ مسئلہ صحابہ کرام کے درمیان مختلف فیہ رہا، بعض صحابہ کرام رفع یدین کرتے تھے اوربعض نہیں کرتے تھے۔اسی وجہ سے مجتہدین امت میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف ہوا، چوں کہ کئی اکابرصحابہ کرام کامعمول ترکِ رفع یدین کاتھا،اوریہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاآخری عمل  بھی ہے اس لیےامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے ترکِ رفع یدین والی روایات کوراجح قراردیا،اسی لیے احناف کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیرات کے موقع پر رفع یدین نہ کرنا مسنون اور افضل ہے اور رفع یدین کی احادیث منسوخ ہیں ، لہٰذا حنفی مقلد کے لیے   نماز میں  تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر تکبیرات کے موقع پر رفع یدین کرنا درست نہیں ہے،اور دلائل کی روشنی میں اسی عمل کو ترجیح  حاصل ہے۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن علقمة، قال: قال عبد الله بن مسعود: «‌ألا ‌أصلي ‌بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى، فلم يرفع يديه إلا في أول مرة». وفي الباب عن البراء بن عازب. حديث ابن مسعود حديث حسن، وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، والتابعين، وهو قول سفيان الثوري، وأهل الكوفة."

(أبواب الصلاة،‌‌باب رفع اليدين عند الركوع،40/2،ط:ومطبعة مصطفى البابي الحلبي)

سنن ابو داؤد میں ہے:

"عن البراء: أن رسول الله- صلى الله عليه وسلم ‌كان ‌إذا ‌افتتح ‌الصلاة رفع يديه إلى قريب من أذنيه، ثم لا يعود."

(كتاب الصلاة،باب من لم يذكر الرفع عند الركوع،66/2، ط:دار الرسالة العالمية)

شرح معاني الآثار میں ہے:

"فإن أبا بكرة قد حدثنا قال: ثنا أبو أحمد ، قال: ثنا أبو بكر النهشلي ، قال: ثنا عاصم بن كليب ، عن أبيه: «أن عليا رضي الله عنه كان يرفع يديه في أول تكبيرة من الصلاة ، ثم لا يرفع بعد».

‌فإن ‌عليا ‌لم ‌يكن ليرى النبي صلى الله عليه وسلم يرفع ، ثم يترك هو الرفع بعده إلا وقد ثبت عنده نسخ الرفع. فحديث علي رضي الله عنه ، إذا صح ، ففيه أكثر الحجة لقول ، من لا يرى الرفع. وأما حديث ابن عمر رضي الله عنهما ، فإنه قد روى عنه ما ذكرنا عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ثم روي عنه ، من فعله بعد النبي صلى الله عليه وسلم خلاف ذلك.

حدثنا ابن أبي داود، قال: ثنا أحمد بن يونس، قال: ثنا أبو بكر بن عياش، عن حصين، عن مجاهد، قال: «صليت خلف ابن عمر رضي الله عنهما فلم يكن يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى من الصلاة» فهذا ابن عمر قد رأى النبي صلى الله عليه وسلم يرفع ، ثم قد ترك هو الرفع بعد النبي صلى الله عليه وسلم فلا يكون ذلك إلا وقد ثبت عنده نسخ ما قد رأى النبي صلى الله عليه وسلم فعله وقامت الحجة عليه بذلك."

(كتاب الصلاة،‌‌باب التكبير للركوع والتكبير للسجود والرفع من الركوع هل مع ذلك رفع أم لا؟، 225/8، ط: عالم الکتب)

فتح القدیر میں ہے:

"وفي رواية وقد حدثني من لا أحصي عن عبد الله أنه ‌رفع ‌يديه ‌في ‌بدء ‌الصلاة فقط، وحكاه عن النبي صلى الله عليه وسلم، وعبد الله عالم بشرائع الإسلام وحدوده متفقد لأحوال النبي صلى الله عليه وسلم ملازم له في إقامته وأسفاره، وقد صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم ما لا يحصى، فيكون الأخذ به عند التعارض أولى من إفراد مقابله ومن القول بسنية كل من الأمرين والله سبحانه وتعالى أعلم."

(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة،302/1، ط:دار الفكر)

وفیہ ایضاً:

"(ولا يرفع يديه إلا في التكبيرة الأولى) خلافا للشافعي رحمه الله في الركوع والرفع منه لقوله عليه الصلاة والسلام «لا ترفع الأيدي إلا في سبع مواطن: تكبيرة الافتتاح، وتكبيرة القنوت وتكبيرات العيدين، وذكر الأربع في الحج» والذي يروى من الرفع محمول على الابتداء، كذا نقل عن ابن الزبير."

(کتاب الصلاۃ، باب صفة الصلاة،309،310/1، ط:دار الفكر)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144502101075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں