بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں خشوع پیدا کرنے کا طریقہ


سوال

 نماز میں  خشوع کیسے پیدا کریں؟ راہ نمائی  فرمائیں۔

جواب

نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان نماز شروع کرنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں  بالکل اس طرح جیسے کہ قیامت کے دن میری اللہ کی بارگاہ میں  پیشی ہوگی،پھر نماز میں ہر ایک رکن کو خوب اطمینا ن اور سکون سے ادا کرے،سنتوں اور مستحبات کا خیال رکھے، جو الفاظ بھی پڑھے ان کو خوب دھیان اور غور سے پڑھے،اگر عربی سے واقف ہو تو ہر لفظ کے معنی کو ذہن میں رکھے،ورنہ کم از کم نماز میں پڑھی جانے والی تسبیحات اور مختصر سورتوں کا ترجمہ یاد کرے اور نماز میں اس کا استحضار رکھے،(ویسے بھی اہلِ ایمان کو چاہیے کہ دین کی بنیادی چیزوں مثلاً چھوٹی سورتوں،اذکار،کلمے اوردعاؤں کاترجمہ یاد کریں)،نیز  ہر نماز کو اپنی زندگی کی آخری نماز سمجھے،خود سے کوئی خیال نہ آنے دے،اگر کبھی خیال بھٹک جاۓ تو پھر نماز میں دوبارہ  اسی طرح متوجہ ہوجاۓ،باقی غیر اختیاری وساوس اور خیالات انسانی قدرت میں نہیں ،انسان بس اسی کا مکلف ہے ۔

اگر اس کے مطابق عمل کیا جاۓ گا تو ان شاء اللہ کامل نماز کا ثواب ملے گا اور رفتہ رفتہ خشوع کی حقیقت بھی بفضلِ خدا میسر آجاۓ گی۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"وعن أبي أيوب الأنصاري رضي الله عنه قال: «جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: عظني وأوجز. فقال: " ‌إذا ‌قمت ‌في ‌صلاتك فصل صلاة مودع، ولا تكلم بكلام تعذر منه غدا، وأجمع الإياس مما في أيدي الناس» ".

5226 - (وعن أبي أيوب الأنصاري قال: «جاء رجل إلى النبي - صلى الله تعالى عليه وسلم - فقال: عظني وأوجز» ) أي اختصر وعلى المهم اقتصر (فقال: " إذا قمت ") أي: شرعت (" في صلاتك فصل صلاة مودع ") : بكسر الدال المشددة أي: مودع لما سوى الله بالاستغراق في مناجاة مولاك، أو المعنى صل صلاة من يودع الصلاة، ومنه حجة الوداع أي: اجعل صلاتك آخر الصلاة فرضا فحسن خاتمة عملك، وأقصر طول أملك لاحتمال قرب أجلك. وقال الطيبي رحمه الله أي: فأقبل على الله بشراشرك، وودع غيرك لمناجاة ربك...."

(كتاب الرقاق، ج:8، ص:3270، ط:دارالفكر)

وفیہ ایضاً:

"وعن عثمان رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ( «ما من امرئ مسلم ‌تحضره ‌صلاة ‌مكتوبة فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها، إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم يؤت كبيرة، وذلك الدهر كله» ) رواه مسلم.

286 - (وعن عثمان) : رضي الله عنه (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ما من امرئ مسلم) : من زائدة لتأكيد النص على العموم ( «‌تحضره ‌صلاة ‌مكتوبة» ) : أي: مفروضة أي يأتي وقتها أو يقرب دخول وقتها ( «فيحسن وضوءها» ) : بأن يأتي بفرائضه وسننه (وخشوعها) : بإتيان كل ركن على وجه هو أكثر تواضعا وإخباتا، أو خشوعها خشية القلب وإلزام البصر موضع السجود، وجمع الهمة لها والإعراض عما سواها ومن الخشوع أن يتوقى كف الثوب والالتفات والعبث والتثاؤب والتغميض ونحوها، وفيه إيماء إلى قوله تعالى: {قد أفلح المؤمنون - الذين هم في صلاتهم خاشعون} [المؤمنون: 1 - 2] وهو يكون في الظاهر والباطن."

(كتاب الطهارة، ج:1، ص:346، ط:دارالفكر)

فیض القدیر میں ہے:

"(فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها) أي وسائر أركانها بأن أتى بكل من ذلك على أكمل هيئاته من فرض وسنة قال القاضي: إحسان الوضوء الإتيان بفرائضه وسننه وخشوع الصلاة الإخبات فيها بانكسار الجوارح وإخباتها أن تأتي بكل ركن على وجه أكثر تواضعا وخضوعا وتخصيص الركوع بالذكر تنبيه على إنافته على غيره وتحريض عليه فإنه من خصائص صلاة المسلمين."

(حرف المیم، ج:5، ص:472،ط:المكتبة التجارية الكبرى - مصر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505101404

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں