بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نمازِ مغرب کا وقت


سوال

مغرب کی نماز  وقت داخل ہونے کے بعد کس وقت تک پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

جب سورج غروب ہوجائے تو مغرب کا وقت شروع ہوجاتا ہے، اور جب تک مغرب کی طرف آسمان کے کنارے پر سرخی  کے بعد سفیدی باقی رہے، اس وقت تک مغرب کا وقت باقی رہتا ہے، لہذا اس وقت تک نمازِ مغرب پڑھ سکتے ہیں، اور شفقِ ابیض (سرخی کے بعد والی سفیدی) کے بعد مغرب کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ تاہم مغرب کی نماز کو اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے، بغیر عذر کے مغرب کی نماز میں اتنی تاخیر کرنا کہ ستارے چمک جائیں، مکروہِ تحریمی ہے۔

مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت کی تحدید نہیں کی جاسکتی؛  کیوں کہ اس وقت کی مقدار ماہ بماہ ہر علاقے اور موسم میں مختلف ہوتی رہتی ہے، تاہم معتدل علاقوں میں عموماً یہ وقت سوا گھنٹے سے کم نہیں ہوتا،  اور   زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ گھنٹہ یا ایک  ایک گھنٹہ پینتیس منٹ ہوتا ہے، سردیوں میں وقت کم اور گرمیوں میں کچھ زیادہ ہوجاتا ہے۔

مغرب کے وقت میں آسمان کی سرخی اور سفیدی کا سمجھنا عام لوگوں کے لیے دشوار ہے،  اس لیے نمازوں کے اوقات کے سلسلے میں جو جنتری محقق علماءِ کرام سے تصدیق شدہ ہے، اس سے استفادہ کیا جائے ،یعنی معتبر دائمی نقشہ اور گھڑی کے مطابق اوقات نماز کا خیال رکھا جائے۔

ہماری ویب سائٹ پر بھی نمازوں کے اوقات معلوم کرنے کی سہولت موجود ہے، اس میں اپنا مطلوبہ شہر منتخب کرکے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے طے شدہ معیار کے مطابق نمازوں کے اوقات معلوم کرسکتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200567

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں