بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز میں قراءت کی غلطی کرنا


سوال

سوال یہ ہے کہ ایک آدمی نے نماز میں تلاوت کے وقت "ووجدك ضالا فهدي"کی جگہ "ووجدك ضالا فاغني "پڑھ لیا اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے۔

جواب

یہ بات واضح رہے کہ نماز میں ایک کلمہ کی جگہ   دوسرا کلمہ پڑھنے سے اگر معنی میں تغیر  فاحش آیا ہو تو اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہےاور اگر تغیر فاحش  نہیں  آیاہو تو نماز فاسد نہ ہوگی لہذا صورتِ مسئولہ  " ووجدك ضالافهدي " كي جگه "ووجدك ضالا فاغني" پڑھنے سے معنی میں تغیر  فاحش نہ  آنے کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها) الخطأ في التقديم والتأخير إن قدم كلمة على كلمة أو أخر إن لم يتغير المعنى لا تفسد نحو إن قرأ لهم فيها زفير وشهيق. هكذا في الخلاصة وإن تغير المعنى نحو أن يقرأ إن الأبرار لفي جحيم وإن الفجار لفي نعيم فأكثر المشايخ على أنها تفسد وهو الصحيح. هكذا في الظهيرية."

(کتاب الصلاۃ، الباب الرابع فی صفۃ الصلاۃ، الفصل الخامس فی زلة  القاری، ج:1، ص:80، ط:دار الفکر بیروت)

المحیط البرھانی میں ہے:

"والثاني: أن يقدم كلمة على كلمة، ولا يغير المعنى بأن يقرأ لهم فيها شهيق وزفير أو يقرأ...... لا تفسد صلاته، وكذلك إذا قرأ إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فخافون ولا تخافوهم لا تفسد صلاته، وإن تغير المعنى تفسد صلاته."

(کتاب الصلاۃ، الفصل السابع فی الخطاء فی التقدیم و التاخیر، ج:1، ص:329، ط:دار الکتب العلمیۃ بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں