بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز میں بازو ننگے ہونے کا حکم


سوال

نماز میں بازو ننگے ہوں تو کیا حکم ہے؟

جواب

نماز کی حالت میں انسان باری تعالیٰ سے مناجات کرتا ہے، اس لیے نماز کی حالت میں ایسی ہیئت اختیار کرنا چاہیے جو اس کی شان کے لائق ہو اور بغیر بازو والی قمیص یا شرٹ اس کے منافی ہے، لہذا ایسی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہو گا، اگر آستین مکمل ہو لیکن موڑنے کی وجہ سے بازو ننگے ہوں تو نماز سے پہلے انہیں نیچے کرلینا چاہیے، اگر کبھی جلدی یا غفلت میں اس حالت میں نماز شروع کردی تو دورانِ نماز عملِ قلیل کے ذریعے اسے نیچے کرلینا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كمّ أو ذيل. (قوله: كمشمر كمّ أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله.

مراقي الفلاح شرح نور الايضاح:

"وتشميركميه عنهما" للنهي عنه لما فيه من الجفاء المنافي للخشوع".

( كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، فصل في المكروهات،1/128)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109201933

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں