بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے لیے جاتے ہوئے ایک بوڑھے کے احترم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا آہستہ آہستہ پیچھے چلنا، واقعے کی تحقیق


سوال

درج ذیل  روایت کی تحقیق مطلوب  ہے:

حضرت علی رضی اللہ عنہ  فجر کی نماز کے لیےجارہے تھے، راستے میں ایک بزرگ یہودی جارہے تھے تو اس سے آگے نکل جانے کوبےادبی سمجھ کر آگے نہ بڑھے، بلکہ اس کے پیچھے آہستہ آہستہ آرہے تھے ، جبرائیل عليه السلام حضور کے پاس وحی لے کر آئے اور فرمایا کہ نماز لمبی کرو حضرت علی آرہے ہیں۔

جواب

سوال میں آپ نے  جس واقعہ کے متعلق  دریافت کیا ہے، یہ واقعہ بعینہ انہیں الفاظ سے تو ہمیں کسی کتاب  میں تلاش کے باوجود نہیں مل سکا۔البتہ اس سے ملتاجلتا ایک واقعہ   علامہ عبد الرحمن صفوری رحمہ اللہ نے "نزهة المجالس ومنتخب النفائس" میں   بغیر کسی سند کےدرج ذیل الفاظ میں  ذکر کیا ہے:

"حكايةٌ: خرجَ عليُّ بنُ أبي طالبٍ لِلصّلاة، فَوجد شيخاً يمشي أمامَه، فمَشى خلفه ولم يتقدّمْ عليه إكراماً؛ لِشيبتِه واحتِراماً له، فلمّا ركع النبيُّ صلّى الله عليه وسلّم وضعَ جبريلُ ۔عليه السّلام۔ جناحَه على ظَهرِه، فكلّما أراد أن يرفعَ مَنعه جبريل حتى أدركه عليٌّ".

ترجمہ:

’’حکایت:ایک بار (حضر ت )علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نماز کے لیے نکلے،(راستے میں)انہوں نے ایک بوڑھے  کوپایاجو ان کے آگےآگے چل رہاتھا،آپ رضی اللہ عنہ  اس کے پیچھےپیچھے چلنے لگے اور اس کے بڑھاپے کی  تعظیم اور اس کے احترام میں آگے نہیں بڑھے،(ادھر مسجد میں جماعت کی نماز کھڑی ہوگئی)جب نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکو ع میں گئے تو (حضرت) جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر اپناپَر رکھ دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے (حضرت) جبریل علیہ السلام آپ کو روک دیتے یہاں تک کہ (حضرت) علی رضی اللہ عنہ  نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں پالیا(یعنی نماز میں آکر شریک ہوگئے )‘‘۔

علامہ عبد الرحمن صفوری رحمہ اللہ مذکورہ واقعہ کو نقل کرنے کے بعد اس کاحکم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

 "لَكنّه حديثٌ موضوعٌ".

ترجمہ:

’’لیکن وہ  حدیث  موضوع(من گھڑت) ہے‘‘۔

(نزهة المجالس ومنتخب النفائس، باب في فضل العدل، فصل في إكرام المشايخ، 2/58، ط: المطبعه الكاستلية - مصر)

مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ  موضوع (من گھڑت) ہے ، لہذا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احتراز کیاجائے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501102777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں