بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے بعد تین مرتبہ:’’سبحان الله العظيم وبحمده ... إلخ‘‘ پڑھنے کی فضیلت سے متعلق حدیث کی تخریج وتحقیق


سوال

آپ صلی الله علیه وسلم نےفرمایا:جو شخص نمازكےبعد تین مرتبه یہ دعاء:"سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" پڑھے تو وه اس حالت  میں اُٹھےگا کہ اس کی مغفرت ہوچکی ہوگی۔ یه حدیث كیسی  ہے؟ اوراس كا بیان كرنا کیسا ہے؟ مكمل تحقیق كےساتھ جواب دےدیں!

جواب

۱۔سوال میں آپ نے"سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" کی فضیلت سے متعلق جو حدیث ذکرکرکے  اس کے بارے میں دریافت کیا ہے،یہ حدیث اولاً  کتبِ احادیث میں سے "مسند البزار"میں، اورکتبِ اَدعیہ میں سے "الدعاء للطبراني"اور "عمل اليوم والليلة لابن السني" مذکور ہے۔ بعد ازاں "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"اور "الترغيب والترهيب"میں بحوالہ "مسند البزار"، "جمع الجوامع"اور "جامع الأحاديث"میں بحوالہ "عمل اليوم والليلة لابن السني"وغیرہ     مذکور ہے۔  "الدعاء للطبراني"میں  یہ حدیث درج ذیل الفاظ میں مذکور ہے:

"حدّثنا خالد بن النضْر القُرشي، ثنا نصر بن عليٍّ، ثنا خلَف بن عُقبة، ثنا أبو الزَّهراء خادمُ أنس بن مالكٍ، عن أنس بن مالكٍ -رضي الله عنه- أنّ رسولَ الله صلّى الله عليه وسلّم- قال: مَن قال حِين يَنصرِف مِن صلاةٍ:  سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ثلاثَ مرّاتٍ قامَ مغفُوراً له". 

(الدعاء للطبراني، باب منه (أي من باب التسبيح في أدبار الصلوات)، رقم:732، ص:232، ط: دار الكتب العلمية-بيروت)

ترجمہ:

’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جوشخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین مرتبہ :"سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"پڑھے تو وہ اس حالت میں اٹھے گا کہ اس کی مغغرت ہوچکی ہوگی‘‘۔

۲۔"مسند البزار" کی حدیث میں   مذکورہ دعاء کے لیے  کوئی  خاص عدد مذکور نہیں ہے،  جب کہ  کتبِ زوائد اورکتب ِ اَدعِیہ   میں   "ثلاثَ مرّاتٍ"کے الفاظ مذکور ہیں (یعنی  مذکورہ دعاء ہر نماز  کے بعد  تین بار پڑھنا مذکور ہے)۔

۳۔مذکورہ حدیث کی سند   میں ایک راوی ’’ابوالزہراء ‘‘ کے  مجہول ہونے  کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن  اس حدیث کا تعلق چوں کہ فضائل کے باب سے ہے، اس لیے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے،یہی وجہ  ہے کہ امام طبرانی ،علامہ ابن السنی اور امام منذری رحمہم اللہ نے اَدِعیہ  پر مشتمل اپنی  اپنی کتابوں میں   اسے بطورِ  معمول کے  ذکر کیا ہے۔

امام منذری رحمہ اللہ  "الترغيب والترهيب"میں مذکورہ حدیث ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

"رواه البزّار عن أبي الزّهراء عن أنسٍ، وسندُه إلى أبي الزّهراء جيّدٌ. وأبو الزّهراء لا أعرِفْه".

(الترغيب والترهيب، كتاب الذكر والدعاء، 2/300، رقم:2472، ط: دار الكتب العلمية-بيروت)

حافظ نو رالدین ہیثمی رحمہ اللہ"مجمع الزوائد ومنبع الفوائد" میں لکھتے ہیں:

"رواه البزّار مِن رواية أبي الزّهراء عن أنسٍِ، وأبو الزّهراء لم أعرِفْه، وبقيّةُ رجالِه رجالٌ ثقاتٌ".

(مجمع الزوائد، كتاب الأذكار، باب ما جاء في الأذكار عقب الصلاة، 10/103، رقم:16928، ط: مكتبة القدسي-القاهرة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202200251

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں