بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کو برا بھلا کہنے کا حکم / میں یہاں کیوں پیدا ہو گیا؟ کاش انڈیا میں پیدا ہو جاتا، کہنے والے کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص نماز کے بارے میں برا بھلا کہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور یہ کہنا کہ "میں یہاں کیوں پیدا ہو گیا؟  کاش انڈیا میں پیدا ہو جاتا"  ، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب

نماز شعائر اللہ میں سے ہے، اور قصداً شعائر اللہ کی توہین واستہزاء سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، تاہم جب تک مذکورہ شخص کے بارے میں وضاحت کے ساتھ معلوم نہ ہوجائے کہ اُس نے نماز کے بارے میں کیا کہا ہے؟ اور کس حالت میں کہا ہے؟، تب تک اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔

باقی کسی شخص کا یہ کہنا کہ "میں یہاں کیوں پیدا ہو گیا،  کاش انڈیا میں پیدا ہو جاتا"، تو اگر کہنے والے نے یہ بات ناشکری یا اللہ تعالیٰ سے شکوے کے طور پر کہی  ہو، تو یہ درست نہیں ہے، انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر  پر راضی رہنا چاہیے، تاہم اس طرح کہنے سے وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔ باقی جو کہا وہ بھی غلط بات ہے،  خوف و خطرہ کی بات ہے۔

حجۃ اللہ البالغہ میں ہے:

"ومعظم شعار الله أربعة: القرآن، والكعبة، والنبي، والصلاة."

(باب تعظيم شعائر الله تعالى، ١/ ١٣٣، ط: دار الجيل)

الموسوعۃ الفقیہ میں ہے:

"الشعائر: جمع شعيرة: وهي العلامة: مأخوذ من الإشعار الذي هو الإعلام، ومنه شعار الحرب وهو ما يسم العساكر علامة ينصبونها ليعرف الرجل رفقته.

وإذا أضيفت شعائر إلى الله تعالى فهي: "أعلام دينه التي شرعها، الله فكل شيء كان علما من أعلام طاعته فهو من شعائر الله". فكل ما كان من أعلام دين الله وطاعته تعالى فهو من شعائر الله، فالصلاة، والصوم والزكاة والحج ومناسكه ومواقيته، وإقامة الجماعة والجمعة في مجاميع المسلمين في البلدان والقرى من شعائر الله، ومن أعلام طاعته ...الخ"

(شعائر، التعريف، ٢٦/ ٩٧، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية)

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"نماز فرض عین ہے، نصِ قطعی سے ثابت ہے، اس کا منکر کافر ہے۔ نماز، قرآن شریف، حدیث شریف کا مذاق اڑانا، استہزاء کرنا کفر ہے۔"

(کتاب العقائد، مایتعلق بالاستخفاف باللہ وشعائرہ، ٢/ ٥١٤، ط: ادارہ فاروق)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قالوا لو وجد سبعون رواية متفقة على ‌تكفير ‌المؤمن ورواية ولو ضعيفة بعدمه يأخذ المفتي والقاضي بها دون غيرها."

(كتاب الطهارة، ١/ ٨١، ط: سعيد)

قرآن کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ."

(إبراهيم: ٧)

مسند احمد میں ہے:

"حدثنا يعمر بن بشر، حدثنا عبد الله يعني ابن المبارك، أخبرنا صفوان بن عمرو، حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن أبيه، قال: جلسنا إلى المقداد بن الأسود يوما، فمر به رجل، فقال: طوبى لهاتين العينين اللتين ‌رأتا ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم، والله لوددنا أنا رأينا ما رأيت، وشهدنا ما شهدت، فاستغضب، فجعلت أعجب، ما قال إلا خيرا، ثم أقبل إليه، فقال: " ما يحمل الرجل على أن يتمنى محضرا غيبه الله عنه، لا يدري لو شهده كيف كان يكون فيه، والله لقد حضر رسول الله صلى الله عليه وسلم أقوام كبهم   الله على مناخرهم في جهنم لم يجيبوه، ولم يصدقوه، أولا تحمدون الله إذ أخرجكم لا تعرفون إلا ربكم، مصدقين لما جاء به نبيكم، قد كفيتم البلاء بغيركم، والله لقد بعث الله النبي صلى الله عليه وسلم على أشد حال بعث عليها فيه نبي من الأنبياء في فترة وجاهلية، ما يرون أن دينا أفضل من عبادة الأوثان، فجاء بفرقان فرق به بين الحق والباطل، وفرق بين الوالد وولده حتى إن كان الرجل ليرى والده وولده أو أخاه كافرا، وقد فتح الله قفل قلبه للإيمان، يعلم أنه إن هلك دخل النار، فلا تقر عينه وهو يعلم أن حبيبه في النار "، وأنها للتي قال الله عز وجل: {الذين يقولون ربنا هب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعين}."

(‌‌أحاديث رجال من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، ‌‌حديث المقداد بن الأسود، ٣٩/ ٢٣٠، ط: مؤسسة الرسالة)

مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ایک حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

"اس حدیث میں ہمارے لیے کئی عظیم الشان سبق ہیں، پہلا سبق یہ ہے کہ بسا اوقات نادانی اور بیوقوفی کی وجہ سے ہمارے دلوں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔۔۔ ہمارے دل میں یہ خیال تو پیدا ہوتا ہے، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو جو سعادت عطا فرماتے ہیں، اس کے ظرف  کے مطابق عطا فرماتے ہیں، یہ تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ظرف تھا کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت سے استفادہ بھی کیا اور اس کاحق بھی ادا کیا ۔۔۔ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایسی ایسی آزمائشیں پیش آئی ہیں کہ یہ انہی کا ظرف تھا کہ ان آزمائشوں کو جھیل گئے، خدا جانے اگر ہم ان کی جگہ ہوتے تو نہ جانے کس شمار میں ہوتے ۔۔۔ اس لیے  اللہ تعالیٰ نے جس شخص کے حق میں جو چیز مقدر فرمائی ہے وہی اس کے حق میں بہتر ہے، لہٰذا یہ تمنا کرنا کہ کاش ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں پیدا ہوتے یہ نادانی کی تمنا ہے اور معاذ اللہ، یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتراض ہے، جس شخص کو اللہ تعالیٰ جتنی نعمت عطا فرماتے ہیں وہ اس کے ظرف کے مطابق عطا فرماتے ہیں۔"

(اصلاحی خطبات، ٧/ ١٧٦، ط: میمن اسلامک پبلشرز)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100710

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں