بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز کی نیت کا ثبوت


سوال

نماز کے لیے جو نىت کى جاتى ہے اس کا ثبوت حدیثِ مبارک سے چاہيے!

جواب

نماز کے لیے نیت کرنا شرط ہے، نماز کی نیت کے لیے زبان سے الفاظ کہنا ضروری نہیں، بلکہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے، تاہم جو شخص زبان سے الفاظِ نیت ادا کیے بغیر اپنے دل کو مستحضر کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے زبانی نیت کرنا بھی کافی ہے؛ بلکہ بہتر ہے۔ 

نیت کا شرط ہونا قرآنِ کریم کی آیت :{وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين}  اور احادیثِ مبارکہ "لا عمل لمن لا نية له" اور "الأعمال بالنيات ولكل امرئ ما نوى"سے ثابت ہوتا ہے، لیکن نماز کے لیے کی جانے والی نیت کے الفاظ حدیث سے ثابت نہیں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 127):

"(ومنها) - النية وإنها شرط صحة الشروع في الصلاة؛ لأن الصلاة عبادة، والعبادة إخلاص العمل بكليته لله تعالى، قال الله تعالى: {وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين} [البينة: 5]، والإخلاص لا يحصل بدون النية.

وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا عمل لمن لا نية له».

وقال: «الأعمال بالنيات ولكل امرئ ما نوى»".

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتوی ملاحظہ کیجیے:

زبان سے نماز کی نیت کرنا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112201323

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں