بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اللہ کی راہ ميں ایک نماز کا ثواب اننچاس کروڑ نماوزوں کے برابر ہے؟


سوال

تبلیغی جماعت کے ساتھی اکثر اپنے بیانات میں یہ کہتے ہیں کہ اللہ کے راستے میں ایک نماز ادا کرنے پر 49 کروڑ نمازوں کے برابر اجر ہے (غالبا اس کو حدیث کا مفہوم کہتے ہیں) کیا یہ حدیث درست ہے ؟اگر یہ حدیث شریف کے الفاظ نہیں تو کیا ان الفاظ کو بغیر حدیث کا حوالہ دے بیان کرنا درست ہے؟ اورکیا واقعی اللہ کی راہ میں ہر نماز یا نیک عمل کے بدلے 49 کروڑ کا ثواب ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اس طرح کی کوئی حدیث ہمیں نہیں ملی  جس میں مذکورہ فضلیت مذکور ہو کہ  اللہ کے راستے میں ایک نماز ادا کرنے پر اننچاس کروڑ نمازوں اجر ملتا ہے ، البتہ اس طرح فضائل تبلیغی  جماعت والے حضرات دو حدیثوں کو جمع کر کے بیان کرتے ہیں   جس کی تفصیل اور اسنادی حیثیت ذیل میں ذکر کی جاتی ہے:

1- ایک حدیث سنن ابنِ ماجہ کی ذکرکی جاتی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:

"حدثنا هارون بن عبد الله الحمال ثنا ابن أبي فديك عن الخليل بن عبد الله عن الحسن عن علي بن أبي طالب وأبي الدرداء وأبي هريرة وأبي أمامة الباهلي وعبد الله ابن عمر وعبد الله بن عمرو وجابر بن عبد الله وعمران بن الحصين كلهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال: من أرسل بنفقة في سبيل الله وأقام في بيته فله بكل درهم سبعمائة درهم، ومن غزا في سبيل الله وأنفق في وجه ذلك فله بكل درهم سبعمائة ألف درهم، ثم تلا هذه الآية: {والله يضاعف لمن يشاء}".

(سنن ابن ماجه، کتاب الجهاد، باب فضل النفقة في سبیل الله ۲/۹۲۲، ط: دارالفکر بیروت)

2- دوسری حدیث امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے:

"حدثنا أحمد بن عمرو بن السرح حدثنا ابن وهب عن يحيى بن أيوب وسعيد بن أبى أيوب عن زبان بن فائد عن سهل بن معاذ عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصلاة والصيام والذكر تضاعف على النفقة في سبيل الله بسبعمائة ضعف»".

(سنن أبي داؤد، باب تضعیف الذکر في سبیل الله:۲/۳۱۶، ط:دارالکتاب العربی)

پہلی حدیث میں مجاہد کے نفقہ کا اجر سات لاکھ بتایا گیا ہے، اور دوسری حدیث میں نماز وغیرہ عباداتِ بدنیہ کا اجر نفقہ  فی سبیل اللہ کے اجر سے سات سو گنا زیادہ بیان فرمایا گیا ہے، اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ نماز کا اجر اننچاس کروڑ ہے،  اس لیے کہ سات لاکھ  کو سات سو  میں ضرب دینے سے یہی حاصل ضرب بن جاتا ہے۔

مگر ان دو روایتوں میں کلام ہے:

1- ایک روایت میں خلیل  بن عبداللہ مجہول راوی ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’تقریب التہذیب‘‘  میں ان کے متعلق لکھا ہے: 

"الخلیل بن عبدالله مجهول، من السابعة".

(تقریب التهذیب،ص: ۲۳۱)

2-  حسن بصری رحمہ اللہ کی تدلیس کی وجہ سے  اس روایت پر منکر کا حکم لگایا گیا ہے ۔

دوسری روایت میں دو ضعیف راوی ہیں،  جن کی وجہ سے یہ سند بھی ضعیف ہے،  زبان بن فائد ضعیف راوی ہیں، حافظ ابن حجر ان کے متعلق لکھتے ہیں:

 "زبان بن فائد بالفاء المصري أبو جوين بالجيم مصغرًا الحمراوي بالمهملة ضعيف الحديث مع صلاحه وعبادته من السادسة مات سنة خمس وخمسين". (تقریب التهذیب ،ص:۲۴۸، رقم : ۱۹۸۵)

دوسرے راوی سہل بن معاذ ہیں، ان کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

"سهل بن معاذ بن أنس الجهني، نزیل مصر، لابأس به إلا في روایات زبان عنه من الرابعة".

(تقریب التهذیب:۲۹۲، رقم : ۲۲۶۷)

لہذا  احادیث بیان کرنے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، اگر کوئی حدیث نہ ہو اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف  منسوب کی جائے جو کہ خطرناک بات ہے، حدیث  مبارک میں  اس پر بہت سخت واعید وارد ہوئی ہے،  نیز حدیث کا حوالہ دیے بغیر بھی  بیان کرنا درست نہیں ہے، اللہ تعالیٰ جس سے چاہے جتنا اجر دے تحدید کی کیا ضرورت ہے، واللہ یضاعف لمن یشاء۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا أبو الوليد، قال: حدثنا شعبة، عن جامع بن شداد، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، قال: قلت للزبير: إني لا أسمعك تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يحدث فلان وفلان؟ قال: أما إني لم أفارقه، ولكن سمعته يقول: «من كذب علي فليتبوأ مقعده من النار».

(صحیح البخاری، باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم، ج: 1، صفحہ: 33، رقم الحدیث:107، ط:  دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403102001

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں