بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران پیشاب کے قطرے نکلنے کا وہم اور اس کا حکم


سوال

نماز كے دوران    اکثر سجدہ کرتے وقت ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے چھوٹے پیشاب کی جگہ سے قطرہ نکلا ہو اور اس کے بعد ميں  نے اکثر  چیک کیا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔اس بارے میں وضاحت فرما دیں۔

جواب

 واضح  رہے  کہ    صرف  قطروں کے نکلنے کے وہم یا وسوسے سے وضو نہیں ٹوٹتا، لہٰذا جب تک قطره نكلنے كا یقین نہ ہو يا جب تک كپڑوں پر تری نظر نہ آجائے، اس وقت تک ان وسوسوں کو اہمیت  نہ دیا کریں۔ہاں  البتہ  اگر  یقین  ہو  جائے    کہ  پیشاب  کے  قطرے  ہی  نکلے  ہیں  تو  وضوء  بھی  ٹوٹ  گیا  اور  جسم  یا  کپڑے  کے  جس  حصہ  پر  وہ  قطرے  لگے  ہیں  وہ  بھی  ناپاک  ہوگئے،جسم  اور  کپڑے  کو  پاک  صاف  کرکے  اور  وضوء  دوبارہ  کرکے  نماز  کا  اعادہ (دوبارہ  ادا  کرنا)    ہوگا ۔

اللباب  میں  ہے:

"(ومن أصابه من النجاسة المغلظة كالدم والبول) من غير مأكول اللحم ولو من صغير لم يطعم (والغائط والخمر) وخرء الطير لا يزرق في الهواء كذجاج وبط وإوز (مقدار الدرهم فما دونه جازت الصلاة معه؛ لأن القليل لا يمكن التحرز عنه؛ فيجعل عفواً، وقدرناه بقدر الدرهم أخذاً عن موضع الاستنجاء (فإن زاد) عن الدرهم (لم تجز) الصلاة، ثم يروى اعتبار الدرهم من حيث المساحة، وهو قدر عرض الكف في الصحيح، ويروى من حيث الوزن، وهو الدرهم الكبير المثقال، وقيل في التوفيق بينهما: إن الأولى في الرقيق، والثانية في الكثيف، وفي الينابيع: وهذا القول أصح".

(اللباب في شرح الكتاب ،ص؛68، فصل في النجاسة، ط: قدیمی

فقط  واللہ  اعلم


فتوی نمبر : 144409100753

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں