بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے وقت دکان کھلی رکھنا


سوال

 میری ایک دکان ہے جو صبح گیارہ بجے کھلتی ہے اور رات کو بارہ بجے بند ہوتی ہے اور نماز کے وقت بھی کھلی رہتی ہے ،کیا نماز کے وقت کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اور نماز کے وقت جو سیل ہوتی ہے وہ حلال ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز فرض ِ عین ہے اور باجماعت نماز ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے ،نماز کے وقت کاروبار /دکان بند کردینی چاہیے ۔

لہذا صورت ِ مسئولہ میں  سائل کو چاہیے کہ نماز کے اوقات میں دکان بند رکھیں اور با جماعت نماز  پڑھنے کا اہتمام کریں ،لیکن اگر  کبھی دکان میں رش یا  مشغولیت کی وجہ سے مسجد میں نہ جاسکے تو  اس کی کمائی حرام نہیں ہوگی ،البتہ اس کی عادت بنالینا درست نہیں ہوگا۔

البتہ جمعے کے دن جمعے کی اذان سے لے کر جمعے کی نماز ادا کرنے تک چوں کہ خریدو فروخت منع ہے؛ لہٰذا جمعے کے دن اذانِ جمعہ ہوتے ہی خرید و فروخت بند کردینی چاہیے۔

فتاوی  شامی میں ہے :

"(قوله وكره تحريما مع الصحة) أشار إلى وجه تأخير المكروه عن الفاسد مع اشتراكهما في حكم المنع الشرعي والإثم، وذلك أنه دونه من حيث صحته وعدم فساده؛ لأن النهي باعتبار معنى مجاور للبيع لا في صلبه ولا في شرائط صحته، ومثل هذا النهي لا يوجب الفساد بل الكراهية كما في الدرر."

(باب البیع الفاسد ،ج:۵،ص:۱۰۱،سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101960

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں