بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1444ھ 31 مئی 2023 ء

دارالافتاء

 

نماز کے جلسہ کی دعا کا حکم


سوال

کیا دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں دعا صرف فرض نماز میں ہی پڑھنی ہوتی ہے یا سنت میں بھی پڑھ سکتے ہیں؟  راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

نماز میں  جلسہ(دو سجدوں کی درمیان  بیٹھنے)  کی حالت میں پڑھنے کی مسنون دعا یہ ہے: "اللَّهُمَّ ‌اغْفِرْ ‌لِي، ‌وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي."تاہم دو سجدوں کے درمیان یہ دعا نوافل میں پڑھنا مسنون ہے،فرض میں نہیں اس لیے امام فرض نماز میں نہ پڑھے۔

سنن ابی داؤ میں ہے:

"حدثنا محمد بن مسعود، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا كامل أبو العلاء، حدثني حبيب بن أبي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول بين السجدتين: «اللهم اغفر لي، وارحمني، وعافني، واهدني، وارزقني."

(‌‌أبواب تفريع استفتاح الصلاة،باب الدعاء بين السجدتين،244/1،ط:المکتبة العصریة)

خلاصۃ الاحکام میں ہے:

"وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول بين السجدتين: " اللهم اغفر لي، وارحمني، وعافني، واهدني، وارزقني " رواه أبو داود، والترمذي، وآخرون بإسناد حسن. قال الحاكم: " هو صحيح الإسناد."

(كتاب مواضع الصلوةالخ،باب الجلوس بين السجدتين،415/1،ط:مؤسسة الرسالة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

'' (وليس بينهما ذكر مسنون، وكذا) ليس (بعد رفعه من الركوع) دعاء، وكذا لا يأتي في ركوعه وسجوده بغير التسبيح (على المذهب)، وما ورد محمول على النفل.

و في الرد: ''(قوله: وليس بينهما ذكر مسنون).... وبين السجدتين: «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني واهدني وارزقني» رواه أبو داود، وحسنه النووي وصححه الحاكم، كذا في الحلية."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1،ص:505،506، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں