بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1446ھ 20 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران بغیر شہوت کے منی نکلنے کی وجہ سے نمازاور غسل کا حکم


سوال

آج میں مسجد گیا نماز کے دوران ایسا لگا کہ منی خارج ہوئی ہے، نماز کے بعد دیکھا تو منی کے قطرے تھے میں نے دوبارہ وضو کر کے نماز ادا کی اور کپڑے کا وہ حصہ بھی دھویا۔کیا میری نماز ہوگی اور غسل کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں دوران نماز جو منی خارج ہوئی ہےاگر وہ شہوت کے ساتھ نکلی ہے تو غسل اور نماز کا اعادہ کیا جائے گااور اگر وہ شہوت کے ساتھ نہیں نکلی ہے تو غسل واجب نہیں ہوگا اورناپاک جگہ کو دھونے کے بعد دوبارہ نماز کو لوٹانے سے نماز اداء ہوجائے گی ۔

ردّالمحتار مع تنویر الابصارمیں ہے:

"و(فرض)الغسل (عند)خروج (منیّ)من العضو والّا فلا یفرض اتّفاقاَ لاَ فی حکم الباطن ،(منفصل عن مقرّہ)ھو صلب الرجل ،وترائب المراَۃ ،ومنیّہ ابیض ،ومنیّھا اصفر ،فلو اغتسلت فخرج منھامنّی ،إن منیّھا  اعادت الغسل  لا الصلٰوۃ و إلّا لا (بشھوۃ ) أي لذَۃ و لو حکماَ کمحتلم."

(ج:1، ص : 159 و 160 ط : سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"المعاني الموجبة للغسل ثلاثة : منها الجنابة و هي تثبت بسببين، أحدهما خروج المنيّ على وجه الدفق و الشهوة من غير إيلاج بالمسّ أو النظر أو الاحتلام أو الاستنماء،كذا في المحيط السرخسيّ من الرّجل و المرأة في النوم و اليقظة كذا في الهداية و تعتبر الشهوة عند انفصاله عن مكانه لا عند خروجه من رأس الاحليل، كذا في التبيين."

(ج:1، ص:14 ط: رشیدیه)

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307102242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں