بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران موبائل جیب سے نکال کر بند کردینا اور پھر اسے جیب میں ڈال دینا


سوال

نماز کے دوران موبائل فون بجا اور اس کو جیب سے نکال کر بند کیا اور پھر جیب میں ڈال دیا اور یہ تمام کام اس نے ایک ہی رکن میں کیا،کیا نماز ہو جاۓ گی یا اعادہ ضروری ہے؟ 

جواب

جب نماز کے لیے مسجد میں آئیں تو مسجد میں داخل ہونے سے پہلے ہی موبائل فون یا کم از کم اس کی گھنٹی بند کردینا چاہیے اور اس کو اپنی روز مرہ کی عادت بنا لینا چاہیے،  لیکن اگر بتقاضائے بشریت موبائل فون بند کرنا بھول جائے اور ایسی صورت میں دورانِ نماز موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگے تو اس کے کسی بٹن کو دبا کر اسے بند کردیا جائے، اگر دائیں جیب میں موبائل ہو تو دائیں ہاتھ سے اور اگر بائیں جیب میں ہو تو بائیں ہاتھ سے بند کیا جائے، اس طرح کرنے سے نہ تو عمل کثیر لازم آتا ہے اور نہ ہی نماز فاسد ہوتی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں نماز کے دوران موبائل فون بجنے کی صورت میں  ایک دفعہ موبائل فون جیب  سے  نکال کر  بند کرنے کے بعد  جیب میں ڈال دینے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، بشرطیکہ یہ عمل مختصر وقت میں اس انداز سے کیا جائے کہ دیکھنے والا یہ نہ سمجھے کہ یہ شخص نماز میں نہیں ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"قال في الفيض: ‌الحك ‌بيد واحدة في ركن ثلاث مرات يفسد الصلاة إن رفع يده في كل مرة."

(‌‌‌‌كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:640،ط:سعيد)

فتاوی قاضی خان میں ہے :

"المصلي إذا ضرب دابة مرّة أو مرتین لاتفسد صلاته؛ لأنّ الضرب یتمّ بید واحدة، وإن ضربها ثلاث مرات في رکعة واحدة تفسد صلاته".

(فصل فيما يفسد الصلاة،ج:1ص:128،ط:رشیدیه)

فتاویٰ شامی  میں ہے:

"(و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها ولا لإصلاحها، وفيه أقوال خمسة أصحها (ما لايشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها).

القول الثاني أن ما يعمل عادة باليدين كثير وإن عمل بواحدة كالتعميم وشد السراويل وما عمل بواحدة قليل وإن عمل بهما كحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها إلا إذا تكرر ثلاثا متوالية....قال في شرح المنية.....والظاهر أن ثانيهما ليس خارجا عن الأول، لأن ما يقام باليدين عادة يغلب ظن الناظر أنه ‌ليس ‌في ‌الصلاة."

(‌‌كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:625،624،ط:سعيد )

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406101060

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں