بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز قصر


سوال

مجھے ایک مسئلہ درپیش ہے۔ اصل میں پلانٹ سے دوھا 80کلومیٹر سے زیادہ دورہے اورہم لوگ دوھا سےکام کرنے پلانٹ پر آتے ہیں اورپوری فرض نمازاداکرتے ہیں ،قصرنہیں۔میرے علم کے مطابق اتنے فاصلے کے سفرمیں نمازقصرہوتی ہے اورہمیں نماز قصراداکرنی چاہئیے،ہم میں سے کچھ لوگوں کا کہناہے کہ چونکہ ہم روزانہ یہ سفرکرتے ہیں اس لیے ہم پرقصرنمازنہیں بنتی۔مجھے امید ہے کہ آپ میرامسئلہ سمجھ گئے ہوں گے۔برائے مہربانی یہ مسئلہ کسی مفتی سے کنفرم کریں اورجہاں بھی مسئلہ پوچھیں وہاں احادیث کا حوالہ لازمی لیں اورفتویٰ لکھوابھی لیں کیوں کہ لوگ زبانی فتویٰ پر یقین نہیں کرتے۔

جواب

آپ کی بات درست ہے روزانہ قصرکی مسافت 77.24کلومیٹریعنی 48میل کے بقدرآمدورفت کی وجہ سے قصر کے حکم پرفرق نہیں پڑتا بلکہ قصر ہی پڑھی جائے گی ۔ البتہ اگرایک مرتبہ بھی آپ نے اپنے پلانٹ کی جائے وقوع پر پندرہ دن یا اس سے زائد ٹہرنے کی نیت کرلی تو پھرجب تک طے شدہ شرائط کے مطابق اپنے اس وطن اقامت سے اقامت اورآمدورفت کا تعلق ختم نہ کردیں اس وقت تک آپ اپنے پلانٹ پر مکمل نماز ہی پڑھیں گے،گوآپ کا آنا جاناروزانہ ہی ہوتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200478

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں