بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نمازجنازہ میں سوۃ فاتحہ پڑھنے کاحکم


سوال

حضرت شیخ مفتی  محمدتقی عثمانی صاحب کی امامت میں تین بار نمازِ جنازہ پڑھنے کا اتفاق ہوا، حضرت مفتی رفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ کا بھی نماز جنازہ پڑھا، حضرت نے تینوں جنازوں کی نماز میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی، کیا نمازِ جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا درست ہے؟اہل حدیث ہم پر لعن طعن کرتے ہیں کہ آپ کے بڑے مفتی حضرات تو جنازہ کی نماز میں خود سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں اور آپ لوگوں کو منع کرتے ہیں،براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں  احناف کے ہاں نماز جنازہ میں قرأت کرنا مکروہ ہے،لہذا سورۃ فاتحہ بھی قرأت كی نیت سے پڑھنا درست نہیں ہے، بلکہ پہلی تکبیرکے بعدحمد و  ثناء پڑھنا سنت ہے، البتہ سورۃ فاتحہ بھی چوں کہ حمدِالہی اور دعاء پر مشتمل ہے، لہذا اگر کسی نےسورۃ  فاتحہ  دعاکی نیت سے پڑھی تو شرعاًجائز ہے۔

الدرالمختارمیں ہے:

''(ولا قراءة ولا تشهد فيها) وعين الشافعي الفاتحة في الأولى. وعندنا تجوز ‌بنية ‌الدعاءوتكره بنية القراءة لعدم ثبوتها فيها عنه - عليه الصلاة والسلام .''

وفی الردتحتہ:

''(قوله وعين الشافعي الفاتحة) وبه قال أحمد لأن ابن عباس صلى على جنازة فجهر بالفاتحة، وقال: عمدا فعلت ليعلم أنها سنة. ومذهبنا قول عمر وابنه وعلي وأبي هريرة، وبه قال مالك كما في شرح المنية (قوله بنية الدعاء)والظاهر أنها حينئذ تقوم مقام الثناء على ظاهر الرواية من أنه يسن بعد الأولى التحميد (قوله وتكره بنية القراءة) في البحر عن التجنيس والمحيط: لا يجوز لأنها محل الدعاء دون القراءة اهـ ومثله في الولوالجية والتتارخانية. وظاهره أن الكراهة تحريمية، وقول القنية: لو قرأ فيها الفاتحة جاز أي لو قرأها بنية الدعاء ليوافق ما ذكره غيره.''

(کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص:213/ 214،ط:سعید)

فتح القدیرللکمال ابن الہمام میں ہے:

''(والصلاة أن يكبر تكبيرة يحمد الله عقيبها (قوله والصلاة أن يكبر تكبيرة يحمد الله عقيبها) عن أبي حنيفة يقول: سبحانك اللهم وبحمدك إلى آخره، قالوا لا يقرأ الفاتحة إلا أن يقرأها بنية الثناء، ولم تثبت القراءة عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم .''

(کتاب الصلاۃ ،باب الجنائز،فصل فی الصلاۃ علی المیت،ج:2،ص:121/ 122،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102311

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں