بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ میں پانچ تکبیرات کہہ دینا


سوال

 نمازِ  جنازہ میں اگر بھولے سے پانچ  تکبیر کہہ کر کوئی سلام پھیر دے تو  نماز جنازہ ہوجاۓگی یا لوٹانا ہوگا؟

جواب

نمازِ جنازہ میں چار تکبیرات فرض ہیں،  چار سے زیادہ  تکبیرات منسوخ ہوگئیں ہیں، اس لیے چار سے زیادہ تکبیرات کہنا درست نہیں ہے، البتہ اگر امام بھولے سے پانچ تکبیر  کہہ دے تو  امام اور مقتدی دونوں کی نماز جنازہ درست ہوجائے گی، تاہم نمازِ جنازہ کی پانچویں تکبیر میں مقتدی امام کی اتباع نہ کریں، بلکہ خاموش کھڑے  رہیں اور پھر امام کے ساتھ سلام پھیر دیں۔ اسی طرح اگر کسی مقتدی نے امام کے پیچھے غلطی سے پانچویں  تکبیر  کہہ لی، تب بھی نمازِ جنازہ ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 214):
"ولو كبر إمامه خمسًا لم يتبع)؛ لأنه منسوخ (فيمكث المؤتم حتى يسلًم معه إذا سلًم) به يفتى، هذا إذا سمع من الإمام، ولو من المبلغ تابعه.

(قوله: لأنه منسوخ) لأنّ الآثار اختلفت في فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فروي الخمس والسبع والتسع وأكثر من ذلك إلا «أن آخر فعله عليه الصلاة والسلام كان أربع تكبيرات» فكان ناسخًا لما قبله، ح عن الإمداد. وفي الزيلعي «أنه صلى الله عليه وسلم حين صلى على النجاشي كبر أربع تكبيرات، وثبت عليها إلى أن توفي» فنسخت ما قبلها ط (قوله: فيمكث المؤتم إلخ) لما كان قولهم لم يتبع صادقًا بالقطع وبالانتظار أردفه ببيان المراد منه ط (قوله: به يفتى) رجحه في فتح القدير بأن البقاء في حرمة الصلاة بعد فراغها ليس بخطأ مطلقًا إنما الخطأ في المتابعة في الخامسة، بحر. وروي عن الإمام أنه يسلم للحال ولاينتظر تحقيقًا للمخالفة ط (قوله: هذا) أي عدم المتابعة ط". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201352

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں