بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازہ کی نیت بھول جائے تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر نماز جنازہ پڑھائی اور نیت بھول گیا، آیا نماز ہوگی یا نہیں?

جواب

"نیت" دل کے ارادے کا نام ہے،  زبان سے الفاظ کی ادائیگی ضروری نہیں ہے،  اس لیے  نمازِ جنازہ شروع کرنے سے پہلے بطورِ نیت کہنے کے لیے مخصوص الفاظ نہیں ہیں، لہذا جنازہ پڑھانے سے پہلے دل میں اگر یہ نیت ہو کہ جنازہ پڑھارہا ہوں تو بھی کافی ہے، اس سے جنازہ کی نماز ادا ہوجائے گی، اور یہ ارادہ عموماً ہر جنازہ پڑھانے والے کے دل میں ہوتاہے، لہٰذا نمازِ جنازہ ادا ہوگئی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 414):

"(و) الخامس (النية) بالإجماع (وهي الإرادة) المرجحة لأحد المتساويين أي إرادة الصلاة لله تعالى على الخلوص (لا) مطلق (العلم) في الأصح، ألا ترى أن من علم الكفر لايكفر، ولو نواه يكفر (والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للإرادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب؛ لأنه كلام لا نية إلا إذا عجز عن إحضاره لهموم أصابته فيكفيه اللسان، مجتبى (وهو) أي عمل القلب (أن يعلم) عند الإرادة (بداهة) بلا تأمل (أي صلاة يصلي) فلو لم يعلم إلا بتأمل لم يجز". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202196

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں