بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

نمازِ جنازہ کے لیے نکلنے سے اعتکاف فاسد ہو جائے گا اور قضا لازم ہوگی


سوال

کیا معتکف نمازجنازہ کے لئے نکل سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ ميں معتکف نمازِ جنازہ کے لیے مسجد سے نہیں نکل سکتا، اگر نمازِ جنازہ کے لیے مسجد سے نکل گیا تو اعتکاف فاسد ہو جائے گا اور ایک دن اور رات کے اعتکاف کی قضا روزے کے ساتھ لازم ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ولو خرج لجنازة يفسد اعتكافه، وكذا لصلاتها، ولو تعينت عليه أو لإنجاء الغريق أو الحريق أو الجهاد إذا كان النفير عاما أو لأداء الشهادة هكذا في التبيين".

(كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف1/ 212، ط: رشيدية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ومقتضى النظر لو شرع في المسنون أعني العشر الأواخر بنيته ثم أفسده أن يجب قضاؤه تخريجا على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصلاة تناوبا أربعا لا على قولهما اهـ...وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج على قول أبي يوسف أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه".

(‌‌كتاب الصوم، باب الاعتكاف،2/ 444، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144309101217

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں