بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز ادا کرنا بھول گیا تو گناہ گار ہوگا یا نہیں / قضاء لازم ہے یا نہیں؟


سوال

اگر کوئی تندرست انسان کسی نماز کو بھول جائے اور وقت بھی گزر جائے تو بھولنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا یا نہیں؟   اور بھولی ہوئی نماز کو قضا ادا کرنا ہوگا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں نماز ادا کرنا بھول جائے تو  گناہ گار تو  نہیں  ہوگا، البتہ جیسے ہی یاد آجائے تو اس کی قضاء کرنا لازم ہے، بھول جانے سے نماز ذمہ سےساقط نہیں ہوگی جب تک اس کی قضاء نہ کرلے۔

صحیح مسلم میں ہے:

عن أنس بن مالك؛ قال: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم "‌من ‌نسي ‌صلاة ‌أو ‌نام ‌عنها، فكفارتها أن يصليها إذا ذكرها".

(كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها: 1/ 241، ط: قدیمی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

(وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من نسي صلاة ") : أي: من تركها نسيانا (أو نام عنها) : ضمن نام معنى غفل أي: غفل عنها في حال نومه قاله الطيبي، أو نام غافلا عنها (فكفارتها... أن يصليها إذا ذكرها) : أي: بعد النسيان أو النوم.

(كتاب الصلاة، باب تعجيل الصلوات: 2/ 532، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101968

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں