بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

امام غلطی سے پہلی یا تیسری رکعت پر بیٹھ جائے تو کیا حکم ہے


سوال

 امام صاحب اگر غلطی سے پہلی یا تیسری رکعت میں بیٹھ جائیں پھر لقمہ ملنے پر فوراً کھڑے ہوجائیں تو سجدہ سہو لازمی کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک مفتی صاحب نے بتایا تھا کہ غلطی درست کی جائے تو سجدہ سہو ضرور کرنا چاہیے اسی میں احتیاط بھی چاہے تین تسبیحات کے بقدر بیٹھنا پایا گیا ہو یا نہ بندہ نے کئی بار فتاوی عثمانی جلد اول صفحہ 490 بعنوان تاخیر رکن کی وہ مقدار جس سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے" بھی دکھایا ہے مگر وہ اپنا طرز عمل ترک نہیں کر رہے اب پوچھنا یہ ہے:

1 ایسی نماز واجب الاعادہ ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی مقتدی اس قسم کے سجدہ سہو کے بعد جماعت میں شریک ہوا ہو تو اس کی اقتداء درست ہوگئی یا نہیں ؟ اگر نماز واجب الاعادہ ہے تو کیا ہمارے ذمہ مقتدیوں کو مناسب انداز سے جو فتنہ پھیلنے سے خالی ہو یہ بتانا ضروری ہے کہ نماز دوبارہ پڑھ لیں یا تنہا اپنی نماز کا اعادہ کافی ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر امام پہلی رکعت یاتیسری رکعت پر بیٹھ جائے اور اس کے بعدفوراً (تین تسبیحات معتدل انداز میں پڑھنے کی مقدار سے پہلے) متنبہ کرنے پر  کھڑا ہوجائے تو اس صورت میں سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، امام کو سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے تھا تاہم اگر کر لیا تو نماز ہو جائے گی اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔

لیکن اگر التحیات اتنی پڑھ لیتا ہے جو ایک رکن  یعنی تین بار سبحان اللہ  کہنے کے مقدار ہو  پھر  کھڑا ہوا تو سجدۂ سہو لازم ہوگا ، اگر سجدۂ نہیں کیا تو اس نماز کے وقت کے اندر اس کا اعادہ واجب ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وكذا القعدة في آخر الركعة الأولى أو الثالثة فيجب تركها، ويلزم من فعلها أيضاً تأخير القيام إلى الثانية أو الرابعة عن محله، وهذا إذا كانت القعدة طويلةً، أما الجلسة الخفيفة التي استحبها الشافعي فتركها غير واجب عندنا، بل هو الأفضل كما سيأتي".

(‌‌كتاب الصلاة، ‌‌باب صفة الصلاة، واجبات الصلاة، ج: 1، ص: 469، ط: سعید) 

وفيه ايضا:

"ولو ظن الإمام السهو فسجد له فتابعه فبان أن لا سهو فالأشبه الفساد ..... (قوله فالأشبه الفساد) وفي الفيض: وقيل لا تفسد وبه يفتي. وفي البحر عن الظهيرية قال الفقيه أبو الليث: في زماننا لا تفسد لأن الجهل في القراء غالب. اهـ. والله أعلم."

(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلوة،باب الامامة، 599/1، سعيد)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح" میں ہے:

"ولم يبينوا قدر الركن وعلى قياس ما تقدم أن‌يعتبر ‌الركن مع سنته وهو مقدر بثلاث تسبيحات."

(‌‌كتاب لصلوة، باب سجود السهو ، ص474، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503100550

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں