بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

’’فریزہ‘‘ نام رکھنے کا حکم


سوال

’’فریزہ‘‘ نام رکھنا کیسا ہے؟ اس کا مادہ عربی لفظ ’’ضوء‘‘ سے بتایا جاتا ہے، اگر لکھنے میں غلطی ہے تو اس کی بھی درستگی فرمادیں۔

جواب

’’فریزہ‘‘ لفظ ’’ضوء‘‘ سے ماخوذ نہیں ہے، بلکہ اس کا مادہ ’’ف - ر - ز‘‘ ہے، فَرَزَ - يَفْرِزُ - فَرْزً کا معنی ہے ’’الگ کرنا، جدا کرنا، بر طرف کرنا‘‘، اس میں چوں کہ ایک طرح کی بد شگونی اور نقص کا معنی پایا جاتا ہے، اس لیے ایسا نام رکھنا نا پسندیدہ ہے، تاہم اگر اسی کا ہم تلفظ نام رکھنا مقصود ہے تو ’’فریدہ‘‘ نام رکھنا زیادہ موزوں ہے، ’’فریدہ‘‘ لفظ کے تین معانی آتے ہیں: (۱) موتی۔ (۲) کانوں سے چنے جانے والے سونے اور چاندی کے ٹکڑے۔ (۳) وہ مہرے یا منکے (دانے)  جو فاصلے کے لیے ہار کے موتیوں کے بیچ میں پروئے جاتے ہیں۔

لسان العرب میں ہے:

"وَقَدْ فَرَزْتُ الشَّيْءَ وأَفْرَزْتُه إِذا قَسَّمْتَهُ. والفِرزُ: النَّصِيبُ المَفْرُوزُ لِصَاحِبِهِ، وَاحِدًا كَانَ أَو اثْنَيْنِ: وفَرَزَهُ يَفْرِزُه فَرْزاً وأَفْرَزَه: مازَهُ. الْجَوْهَرِيُّ: الفَرْزُ مَصْدَرُ قَوْلِكَ فَرَزْتُ الشَّيْءَ أَفْرِزُه إِذا عَزَلْتَهُ عَنْ غَيْرِهِ ومِزْتَه، والقِطعَةُ مِنْهُ فِرْزَةٌ، بِالْكَسْرِ. وفارَزَ فلانٌ شَرِيكَهُ أَي فَاصَلَهُ وَقَاطَعَهُ."

(مادة: ز، فصل الفاء، ج:5، ص:391، ط:دار صادر بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"«وكان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة وجاءه آخر اسمه المضطجع فسماه المنبعث، وكان لعمر - رضي الله عنه - بنت تسمى عاصية فسماها جميلة» ، ولا يسمى الغلام يسارا ولا رباحا ولا نجاحا ولا بأفلح ولا بركة فليس من المرضي أن يقول الإنسان عندك بركة فتقول لا."

(كتاب الحطر والاباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:417، ط:سعيد)

بذل المجہود میں ہے:

"حدثنا مسدد، حدثنا بشر ، حدثني بشير بن ميمون، عن عمه أسامة بن أخدري: أن رجلا يقال له أصرم كان في النفر الذين أتوا رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: «ما اسمك؟ » ، قال، أنا أصرم، قال: «بل أنت زرعة».

(ما اسمك؟ قال: أنا أصرم) أي أقطع (قال: بل أنت زرعة)، وإنما غيره لأن فيه إيهام انقطاع الخير والبركة، وزرعة مشعر بهما؛ لأنه عن الزراعة، ويحصل بها الخير والبركة."

(اول كتاب الادب، باب تغير الإسم القبيح، ج:13، ص:353، رقم:4954، ط:مركز الشيخ ابي الحسن الندوي)

لسان العرب میں ہے:

"والفَريدُ والفَرائدُ: الشَّذْرُ الَّذِي يَفْصِل بَيْنَ اللُّؤْلؤ وَالذَّهَبِ، وَاحِدَتُهُ فَريدَةٌ، وَيُقَالُ لَهُ: الجاوَرْسَقُ بِلِسَانِ الْعَجَمِ، وبَيَّاعُه الفَرَّادُ.

والفَريدُ: الدُّرُّ إِذا نُظمَ وفُصِلَ بِغَيْرِهِ، وَقِيلَ: الفَريدُ، بِغَيْرِ هَاءٍ، الْجَوْهَرَةُ النَّفِيسَةُ كأَنها مُفْرَدَةٌ فِي نوعِها، والفَرَّادُ صانِعُها. وذَهَبٌ مُفَرَّدٌ: مَفَصَّلٌ بِالْفَرِيدِ.

وَقَالَ إِبراهيم الْحَرْبِيُّ: الفَريدُ جَمْعُ الفَريدَة وَهِيَ الشَّذْرُ مِنْ فِضَّةٍ كاللؤْلؤَة."

(مادة:د، فصل الفاء، ج:3، ص:332، ط:دار صادر بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144403100578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں