بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ناخن کاٹنے کا طریقہ


سوال

ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ بتائیں؟

جواب

واضح رہے کہ  ناخن کاٹنے کا کوئی طریقہ سنت سے ثابت نہیں ہے،  البتہ مستحب یہ ہے کہ پہلے دائیں ہاتھ کے ناخن کاٹے جائیں، پھر بائیں ہاتھ کے،اور دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شروع کرنا چاہیے، جہاں تک بات ہے کہ دائیں ہاتھ  کے انگوٹھے پر ختم کرنے کی، تو علامہ نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ دائیں ہاتھ کے مکمل ناخن پہلے کاٹنے چاہییں، پھر بائیں ہاتھ کے مکمل ناخن، حافظ ابن حجر، ابن دقیق العید، علامہ سیوطی اور علامہ ابن عابدین رحمہم اللہ  جیسے محققین نے یہی لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کا سنت طریقہ ثابت نہیں ہے، لہٰذا کسی طریقے سے بھی کاٹ سکتے ہیں۔بہتر یہ ہے کہ دائیں ہاتھ  کے ناخن پہلے کاٹے جائیں ۔

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي شرح الغزاوية روي «أنه - صلى الله عليه وسلم - بدأ بمسبحته اليمنى إلى الخنصر ثم بخنصر اليسرى إلى الإبهام وختم بإبهام اليمنى» وذكر له الغزالي في الإحياء وجها وجيها ولم يثبت في أصابع الرجل نقل، والأولى تقليمها كتخليلها.قلت: وفي المواهب اللدنية قال الحافظ ابن حجر: إنه يستحب كيفما احتاج إليه ولم يثبت في كيفيته شيء ولا في تعيين يوم له عن النبي - صلى الله عليه وسلم - وما يعزى من النظم في ذلك للإمام علي ثم لابن حجر قال شيخنا إنه باطل.

(قوله قلت إلخ) وكذا قال السيوطي: قد أنكر الإمام ابن دقيق العيد جميع هذه الأبيات وقال: لا تعتبر هيئة مخصوصة، وهذا لا أصل له في الشريعة، ولا يجوز اعتقاد استحبابه لأن الاستحباب حكم شرعي لا بد له من دليل وليس استسهال ذلك بصواب اهـ".

(کتاب الحظر والاباحۃ۔ج:6،ص:406 ،سعید)

المجموع شرح المہذب میں ہے :

"ويستحب أن يبدأ باليد اليمنى ثم اليسرى ثم الرجل اليمنى ثم اليسرى، قال الغزالي في الإحياء: يبدأ بمسبحة اليمنى ثم الوسطي ثم البصر ثم خنصر اليسرى إلى ابهامها ثم إبهام اليمنى وذكر فيه حديثا وكلاما في حكمته: وهذا الذي قاله مما أنكره عليه الامام أبو عبد الله المأرزى المالكي الإمام في علم الأصول والكلام والفقه: وذكر في إنكاره عليه كلاما لا أوثر ذكره: والمقصود أن الذي ذكره الغزالي لا بأس به: إلا في تأخير إبهام اليمنى فلا يقبل قوله فيه: بل يقدم اليمنى بكمالها ثم يشرع في اليسرى: وأما الحديث الذي ذكره فباطل لا أصل له وأما الرجلان فيبدأ بخنصر اليمنى ثم يمر على الترتيب حتى يختم بخنصر اليسرى كما في تخليل الأصابع في الوضوء: وأما التوقيت في تقليم الأظفار فهو معتبر بطولها: فمتى طالت قلمها ويختلف ذلك باختلاف الأشخاص والأحوال".

(ج:1،ص:286،الطباعۃ المنیریۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101215

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں