بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نجس پانی سے کسی چیز کو پاک کرنا


سوال

اگر کسی پانی میں نجاست گرجائے تو کیا اس پانی سے دوسرے چیزوں کو پاک کیا جاسکتا ہے؟کیا وہ پاک ہوجائیں گی؟

اگر اس پانی میں ہاتھ ڈالا جائے تو کیا وہ ناپاک ہوجائے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ پانی قلیل ہے ،اور اس میں نجاست گرگئی ہے تو وہ پانی نجس ہوگیا ہے اس سے کسی چیز کو پاک کرنا جائز نہیں ہے، نیز ایسے نجس پانی  میں ہاتھ ڈالنے سے ہاتھ ناپاک ہوجائے گا۔اور اگر یہ پانی کثیر ہے تو وضاحت کے ساتھ اس کی مقدار لکھ کر دوبارہ جواب طلب کرلیں۔

"شرح مختصر الطحاوی" میں ہے:

"و الدلیل علی تحریم استعمال الماء الذي فیه جزء من النجاسة و إن لم یتغیر طعمه أو لونه أو رائحته، قول اللہ تعالی: {ویحرم علیهم الخبائث}، و النجاسات من الخبائث؛ لأنها محرمة."

(شرح مختصر الطحاوي، کتاب الطهارۃ، باب ماتکون به الطهارۃ،ج:1،ص:239، ط: دار البشائر الإسلامیة، بیروت)

"الفقہ الاسلامی و ادلتہ"  میں ہے:

"و المتنجس عند أکثر الفقهاء لاینتفع به، و لایستعمل في طهارۃ و لا في غیره إلا في نحو سقي بهیمة أو زرع أو في حالة الضرورة."

(القسم الأول: العبادات، الباب الأول: الطهارات...النوع الثالث: الماء النجس،ج:1،ص:279، ط: رشیدیہ کوئٹہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410101230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں