بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ناجائز امور موبائل میں ہوں تو قرآن رکھنا بے ادبی ہے؟


سوال

آج کل اکثر دین دار مسلمانوں کے موبائل میں قرآن مجید موجود ہوتا ہے اور وہ اس سے تلاوت بھی کرتے ہیں، جب کہ اس موبائل میں تصاویر اور ویڈیوز بھی محفوظ ہوتی ہیں، ایسی صورت میں قرآن مجید کو موبائل میں محفوظ کرنا قرآن کی بے ادبی اور بے حرمتی میں شمار ہوگا یا نہیں؟

جواب

جان دار کی تصاویر، ویڈیوز اور فلمیں دیکھنا اور تصاویر والے گیمز کھیلنا ناجائز ہے، اور بغیر تصاویر والے گیم بھی لہو ولعب ہونے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں، لہذا موبائل میں مذکورہ تمام کاموں کو ترک کرنا ضروری ہے، موبائل کو ان خرافات سے پاک کرنا چاہیے۔ 

جہاں تک تلاوتِ کلام پاک کی بات ہے تو قرآنِ مجید کو آداب کی رعایت کے ساتھ  باقاعدہ مصحف میں دیکھ کر  پڑھنے میں زیادہ ادب ہے، لیکن  موبائل میں دیکھ کر قرآنِ مجید پڑھنا بھی درست ہے، اس میں بھی مصحف میں دیکھ کر ہی پڑھنا شمار ہوگا۔

سوال میں ذکرکردہ  شبہ کی اس پہلو سے اصلاح کی ضرورت ہے کہ موبائل میں ویڈیوز اور فلمیں نہ دیکھی جائیں، اور گیمز نہ کھیلے جائیں، نہ یہ کہ ویڈیوز، فلمیں اور گیمز تو نہ چھوڑیں اور قرآنِ کریم کی تلاوت ترک کردیں! کیوں کہ عموماً ہر جگہ مصحف دست یاب ہونا، اور قرآنِ مجید کا نسخہ ہاتھ میں لے کر پڑھنا ممکن نہیں ہوتا، اگر لوگ یہ سوچ کرکہ جس موبائل میں ہم تلاوت کرتے ہیں اس میں ویڈیوز کیوں دیکھیں؟ فلم بینی ترک کردیں تو نہ صرف گناہ سے بچ جائیں گے، بلکہ موبائل میں تلاوت کرنا باعثِ خیر بھی ہوجائے گا۔ ورنہ تلاوت بھی رہ جائے گی اور فلم بینی اور عبث میں ضیاعِ وقت کا گناہ بھی اپنی جگہ رہے گا۔
حاصل یہ ہے کہ قرآنِ کریم موبائل میں محفوظ کرنا اور تلاوت کرنا درست ہے، ایسے موبائل کو تصاویر اور ویڈیوز سے پاک کردینا چاہیے، تلاوت ترک نہیں کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201922

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں