بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نیل پالش بیچنا


سوال

نیل پالش کا بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟ کیا غیر مسلم کے ہاتھ بیچ سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب

نیل پالش کی مختلف اقسام ہیں:

اول وہ جن میں حرام یا ناپاک اجزاء شامل ہوں تو مسلمان کا فروخت کرنا جائز نہیں، خواہ خریدار مسلمان ہو یا غیر مسلم۔

ان کے علاوہ  کا بیچنا جائز ہے، البتہ جس کی تہہ ایسی جم جائے کہ بآسانی نہ اترسکے اور پانی جسم تک پہنچنے سے مانع ہو، اسے لگا کر وضو نہیں ہوتا، اگر وضو کرنے کے بعد (پاک اجزا پر مشتمل نیل پالش) لگائی اور پھر نماز پڑھی تو نماز ہوجائے گی، وضو ٹوٹ جانے کے بعد دوبارہ وضو کرنے سے پہلے اسے چھڑانا لازم ہوگا، ورنہ نماز ادا نہیں ہوگی۔

’’ أو لزق بأصل ظفره طین یابس أو رطب لم یجز‘‘. ( الفتاوی الهندیة:۱/۲) ​​​​​فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144107200304

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے