بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

نائی کی کمائی کا حکم


سوال

 میرا کام چھوٹا ہوا ہے، میرا ایک چھوٹا بھائی نائی کا کام کرتا ہے،  اب تقریباً گھر کا خرچہ اسی کی آمدنی سے چل رہا ہے۔ میں گھر والوں کو بارہا کہہ چکا ہوں کہ نائی کی کمائی درست نہیں ہے، لیکن گھر کا کوئی فرد بھی میری بات نہیں مانتا۔ بلکہ وہ کہتے ہیں کہ خود تمہارا اپنا کام تو چھوٹا ہوا ہے اب اس کا کام بھی بند ہو جائے؟ ایسی صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے، کیا میں گھر کا کھانا کھا سکتا ہوں، یا امی سے پیسے لے کر اپنی کسی ضرورت میں استعمال کر سکتا ہوں۔ کیونکہ مجھے اگر کام ڈھونڈنے بھی جانا ہے تو کرایہ وغیرہ تو گھر سے ہی لے جانا پڑتا ہے ۔

جواب

 نائی کا پیشہ مکمل حرام اور ممنوع نہیں ہے، حلال یا حرام ہونے میں تفصیل یہ ہے کہ جو کام حرام ہیں، یعنی داڑھی مونڈنا یا بھنویں بنانا، ان کاموں کی اجرت بھی حرام ہے، اور جو کام جائز ہیں جیسے سر کے بال کاٹنا یا ایک مشت سے زائد ڈاڑھی کو  شرعی طریقے پر درست کرنا، ان کاموں کی اجرت بھی حلال ہے، البتہ جیسے  خلافِ شرع بال (مثلاً: سر کے کچھ حصے کے بال چھوٹے اور کچھ کے بڑے) رکھنا ممنوع ہے اسی طرح خلافِ شرع بال کاٹنے کی اجرت بھی حلال طیب نہیں۔ لہذا صورتِ  مسئولہ میں اگر سائل کا بھائی جو نائی کے پیشے سے منسلک ہے، وہ حجامت سے متعلق جائز کام کرکے اجرت لیتا ہے، تو اس کی کمائی حلال ہے، سائل اس کی کمائی  سے کھا سکتا ہے، اور اپنی  ضرورت کے  لیے رقم  بھی لے سکتا ہے، اور اگر وہ جائز کاموں کے ساتھ   ناجائز کام بھی کرتا ہے ، تو پھر اگر حلال کمائی زیادہ ہو تو حلال کا حکم لگے گا اوراگر حرام کمائی زیادہ ہو تو حرام کا حکم لگے گا۔ باقی جب تک سائل کا اپنا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے تو سائل کے  لیے مذکورہ آمدنی سے کھانا پینا جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا".

(حاشية ابن عابدين على الدر المختار: كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لايفسده (2/ 418)،ط.سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعًا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح ... وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا، فإن كان ذلك بحق بأن استأجر إنسانا لقطع عضو جاز.

(كتاب الإجارة،فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة (4/ 189)،ط. دار الكتب العلمية، الطبعة: الثانية، 1406هـ - 1986م)

المحیط البرہانی میں ہے:

"لا تجوز الإجارة على شيء من اللهو والمزامير والطبل وغيره؛ لأنها معصية والإجارة على المعصية باطلة؛ ولأن الأجير مع المستأجر يشتركان في منفعة ذلك فتكون هذه الإجارة واقعة على عمل هو فيه شريك."

(المحيط البرهاني: كتاب الإجارات، الفصل الخامس عشر: في بيان ما يجوز من الإجارات، وما لا يجوز (7/ 482)،ط. دار الكتب العلمية، بيروت ، الطبعة: الأولى، 1424 هـ- 2004 م )

فقط واللہ ٲعلم


فتوی نمبر : 144404101563

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں