بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

نفلی طواف فاسد ہوجائے


سوال

اگر کسی کا نفلی طواف فاسد ہوجائے اور وہ دوبارہ لوٹائے بغیر وطن واپس آجائے تو کیا اس پر دم واجب ہوگا؟یا اس کا اور کوئی حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر چار چکر کے بعد نفلی طواف فاسد ہوگیا تھا تو جتنے چکر رہ گئے ہوں، اتنی مقدار میں صدقہ فطر ادا کرنا ہوگا اور اگر چار چکر مکمل نہیں ہوئے تھے تو دم ادا کرنا ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 496):

"(قوله: سبعة أشواط) من الحجر إلى الحجر شوط، خانية. وهذا بيان للواجب لا للفرض في الطواف لما مر أن أقل الأشواط السبعة واجبة تجبر بالدم، فالركن أكثرها، بحر. لكن الظاهر أن هذا في الفرض والواجب، فقد صرحوا بأنه لو ترك أكثر أشواط الصدر لزمه دم، وفي الأقل لكل شوط صدقة.

مطلب في طواف القدوم

و أما القدوم فلم یصرّحوا بما یلزمه لو ترکه بعد الشروع، و بحث السندي في منسکه الکبیر أنه کالصدر، ونازعه في شرح اللباب بأنّ الصدر واجب بأصله؛ فلایقاس علیه مایجب بشروعه، فالظاهر أنه لایلزمه بترکه شيء سوی التوبة، کصلاة النفل اهـ ملخَّصًا.

و قدیقال: وجوبه بالشروع بمعنی وجوب إکماله و قضائه بإهماله ویلزم منه وجوب الإتیان بواجباته کصلاة النافلة، حتی لو ترك منها واجبًا وجب إعادتها أو الإتیان بما یجبر ما ترکه منها کالصلاة الواجبة ابتداءً، و هنا کذلك لو ترك أقله تجب فیه صدقة، و لو ترك أکثره یجب فیه دم؛ لأنه الجابر لترك الواجب في الطواف کسجود السهو في ترك الواجب في النافلة، والله تعالی أعلم". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144108201183

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے