بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نفلی صدقے کا مصرف اور والد کو حج کروانا


سوال

میں کاروبار کرتاہوں اور اس  سے جو منافع ہوتا ہے اس کا دس فیصد میں نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت کر رکھی ہے ، کوئی بھی کام ہوتا ہے نیکی کا جیسے کسی ضرورت مند فیملی کو راشن دینا ، کسی ضرورت مند کو نقد دینا واپسی کی امید نہ کرتے ہوۓ ،  مسجد میں لگا دینا، مدرسہ میں دینا ، مدرسے کے ختم میں حصہ ڈالنا، دیگ بانٹ دینا، دینی کتب لے کر دینا وغیرہ ، ایسے کاموں میں خرچ کرتا ہوں ، اب سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا صورت میں میں اگر کچھ غلط کررہا ہوں تو بتادیا جاۓ ، یا اس کے علاوہ جہاں پر یہ پیسے صرف کرسکتا ہوں وہ بتایا جاۓ۔

دوسرا میرے والد سرکاری ملازمت کرتے ہیں، کیا ان کو ان پیسوں سے حج یا عمرہ کرایا جاسکتا ہے؟  

والد صاحب  اسی سال ریٹائر ہورہے ہیں  ان  کی کچھ خاص جمع پونجی نہیں ہے، ریٹائرمنٹ پہ جو ان کو سرکار کی طرف سےملے گا وہی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ نے جومصارف ذکر کیے ہیں وہ سب درست ہیں، اس کے علاوہ نفلی صدقہ میں افضل یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عمرو بن جموح  رضی اللہ عنہ  ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

"{يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ}."  (البقرة ٢١٥)

" لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ  کیاچیز  خرچ کیا کریں ۔آپ فرما  دیجیے  کہ جو کچھ مال  تم کو صرف کرنا ہو ، سو   ماں، باپ کا حق ہےاور  قرابت داروں کا ، اور بے پاپ کے بچوں کا اورمحتاجوں کا  اور مسافرکا  ، اور جو نسا نیک کام کروگے سو اللہ تعالیٰ کو  اس کی خوب  خبر ہے۔"

(بیان القرآن)

نیز آپ کے لیے ان پیسوں سے  اپنے والد کو حج یا عمرہ کرانادرست ہے اور ثواب کا باعث ہے۔

 حدیث شریف میں آتا ہے ، حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کسی مسکین کو صدقہ دینا ایک صدقہ ہے (یعنی اس کو دینے میں صرف صدقہ ہی کا ثواب ملتا ہے)مگر اپنے اقرباء میں سے کسی کو صدقہ دینا دوہرے ثواب کا باعث ہے،ایک ثواب تو صدقہ کا اور دوسرا ثواب صلہ رحمی(رشتہ داروں سے حسن سلوک )کا ہوتا ہے۔"

مشکا ۃ المصابیح میں ہے:

"وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة وصلة ". رواه أحمد والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي."

(کتاب الآداب،باب افضل الصدقۃ، ج: 1، ص: 604، ط: المکتب الاسلامی)

"حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "سب سے افضل دینار وہ ہے جوآدمی آپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے ، اوروہ دینار جواپنے جانور پر اللہ کے راستے میں خرچ کرتا ہے ، اوروہ دینار جواللہ تعالی کے راستے میں اپنے دوست واحباب پرخرچ کرتا ہے ۔"

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ثوبان، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:  أفضل ‌دينار ‌ينفقه الرجل، دينار ينفقه على عياله، ودينار ينفقه الرجل على دابته في سبيل الله، ودينار ينفقه على أصحابه في سبيل الله."

(كتاب الزكاة، باب فضل النفقة على العيال والمملوك، وإثم من ضيعهم أو حبس نفقتهم عنهم، ج: 2، ص: 691، ط: دار إحياء التراث العربي)

"حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"  جب مسلمان اپنے اہل پر کوئی خرچہ کرتا ہے اور نیت ثواب کی ہوتی ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔"

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أنفق المسلم ‌نفقة ‌على ‌أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة."

(كتاب الزكاة، باب افضل الصدقة، ج: 1، ص: 602، ط: المكتب الاسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة."

(کتاب الزکوۃ، باب مصرف الزکوۃ، ج: 2، ص: 346، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100985

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں