بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزہ کی نیت کرنے کے بعد ترک کرنے کا حکم


سوال

نفلی روزہ کی نیت کی، پھر تھوڑی دیر بعد ترک کر دینے سے متعلق حکم بیان کر دیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص صبح صادق کے بعد نفلی روزہ کی نیت  کرکےروزہ رکھے اور پھر تھوڑی دیر بعد روزہ توڑ دے تو اس صورت میں اس شخص پر اس روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا ، تاہم بلاعذر ایسا کرنے سے گناہ گار نہیں ہوگا، اور اگر کوئی شخص صرف روزہ کی نیت کرے کہ روزہ رکھوں گا اور باقاعدہ  وہ روزہ شروع نہ کرے تو اس صورت میں اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا كفارة ‌بإفساد ‌صوم غير رمضان كذا في الكنز."

(کتاب الصوم ،ج:۱،ص:۲۱۵،دارالفکر)

البحر الرائق میں ہے :

"ثم اعلم أن النية من الليل كافية في كل صوم بشرط عدم الرجوع عنها حتى لو نوى ليلا أن يصوم غدا ‌ثم ‌عزم ‌في ‌الليل على الفطر لم يصبح صائما فلو أفطر لا شيء عليه إن لم يكن رمضان."

(کتاب الصوم ،اقسام الصوم ،ج:۲،ص:۲۸۲،دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں