بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 صفر 1444ھ 27 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزہ تنہا رکھنے کا حکم


سوال

کیانفلی روزہ تنہارکھناچاہیے؟

جواب

نفلی  روزہ تنہا رکھنا ضروری نہیں ہے، نہ ہی تنہا رکھنا منع ہے، اگر چاہے تو  ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے یا پے در پے کئی دن روزے رکھے دونوں صورتیں جائز ہیں، البتہ دس محرم الحرام (عاشوراءکے دن) کا تنہا روزہ  رکھنا مکروہ ہے،  اس کے ساتھ نو محرم یا گیارہ محرم کا روزہ ملایا جائے۔

اسی طرح جمعے  کے  دن  کو خاص کرکے موجبِ  فضیلت سمجھ کر روزہ رکھنا یا اس کا التزام کرنا مکروہ ہے، لیکن جمعے کا تنہا روزہ مطلقًا ممنوع نہیں ہے۔(مستفاد از  آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 3۔450)    فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207201448

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں