بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفلی قربانی میں اپنی، آپ صلی علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی نیت کرنا


سوال

ایک شخص پر قربانی واجب تو نہیں ہے،  لیکن وہ نفلی قربانی کر رہا ہے،  اس قربانی میں وہ اپنی اور حضور نبی کریم صلی علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کی نیت کر رہا ہے تو  کیا  اس طرح کرنا درست ہے ؟

جواب

کسی پر قربانی واجب نہ ہو، اور وہ نفلی طور پر قربانی کرکے اس میں اپنی ، حضور ﷺ اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی  نیت کرنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے نفلی قربانی کرے اور پھر اس کا  ثواب آپ ﷺ  تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کو پہنچادے ، یہ جائز ہے،  بلکہ کسی بھی نیک کام کا اجر تمام امتِ محمدیہ ﷺ کو پہنچانا درست ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 326):

"و قد صح «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين: أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته»، وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 595):

"الأصل أن كل من أتى بعبادة ما،  له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه؛ لظاهر الأدلة. وأما قوله تعالى :﴿ وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾ [النجم: 39] أي إلا إذا وهبه له، كما حققه الكمال، أو اللام بمعنى على كما في : ﴿وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ﴾ [غافر: 52]، ولقد أفصح الزاهدي عن اعتزاله هنا والله الموفق.

(قوله: بعبادة ما) أي سواء كانت صلاةً أو صوماً أو صدقةً أو قراءةً أو ذكراً أو طوافاً أو حجاً أو عمرةً، أو غير ذلك من زيارة قبور الأنبياء عليهم الصلاة والسلام، والشهداء والأولياء والصالحين، وتكفين الموتى، وجميع أنواع البر، كما في الهندية، ط۔ وقدمنا في الزكاة عن التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلاً أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات؛ لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء. اهـ."

 فتاوی قاضی خان میں ہے:

"و لو ضحی عن میت من مال نفسه بغیر أمر المیت جاز، و له أن یتناول منه و لایلزمه أن یتصدق به؛ لأنها لم تصر ملکًا للمیت؛ بل الذبح حصل علی ملکه، و لهذا لو کان علی الذابح أضحیة سقطت عنه."

(فتاویٰ قاضي خان علی هامش الفتاویٰ الهندیة ۳؍۳۵۲ )

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144212200580

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں