بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفلی قربانی کی رقم صدقہ کرنا کیسا ہے؟


سوال

نفلی قربانی کا ارادہ رکھتے ہوئے اس کی رقم صدقہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عام حالات میں جانور صدقہ کرنے کے بجائے اس كی قیمت صدقہ کرنا جائز ہے،البتہ قربانی کے ایام میں نفلی قربانی کی رقم صدقہ کرنے سے قربانی  کرنا افضل ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی الله علیه وسلم: مَا أُنْفَقَتِ الْوَرِقُ فِی شَیْءٍ أَفْضَلَ مِنْ نَحِیرَۃٍ فِی یَوْمِ عِیدٍ."

(المعجم الکبیر، رقم:10894،ج:11،ص:16،ط:مکتبہ ابن تمیہ)

سنن الترمذی میں ہے:

" ١٤٩٣ - حدثنا أبو عمرو مسلم بن عمرو بن مسلم الحذاء المدني قال: حدثنا عبد الله بن نافع الصائغ أبو محمد، عن أبي المثنى، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما عمل آدمي من عمل يوم النحر أحب إلى الله من إهراق الدم، إنه ليأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها، وأن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض، فطيبوا بها نفسا» ... ويروى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «في الأضحية لصاحبها بكل شعرة حسنة ويروى بقرونها»."

( أبواب الأضاحي، باب ما جاء في فضل الأضحية، ج:4۔ ص:٨٣، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)

الجوہرة النیرہ میں ہے:

"لأن القيمة عندنا تجزي في الزكاة فكذا في الكفارات ولأن المقصود سد الخلة ودفع الحاجة وذلك يوجد في القيمة".

(کتاب الظهار، کفارة الظهار،ج:2،ص:68، ط: المطبعة الخيرية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144312100327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں