بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

نفلی اورفرض روزوں کی ایک ساتھ نیت کرنے کاحکم


سوال

نفلی روزہ کے ساتھ فرض روزہ کی قضا کی نیت کرسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  نفلی روزہ  مستقل الگ  روزہ ہے ،اورفرض روزے کی  قضاءکاروزہ بھی مستقل   الگ  روزہ ہے ،نفلی روزے کی نیت کی جائے گی تو ہ نفلی روزہ اداہو گا،اورقضاء روزہ کی نیت سے  رکھا جائے تو قضاء  روزہ ہی ادا ہو گا ۔

لہذ اصورت مسئولہ میں  نفلی روزے کے ساتھ قضاء روزے کی نیت  کرکے ایک ساتھ دونوں روزے نہیں رکھ سکتے ہیں  ، بلکہ الگ الگ نیت کی جائےگی، اگر  نفل اور قضاء روزوں کی ایک ساتھ نیت کی جائے  اس  سے قضاء روزہ ادا ہو گا ۔

الفتاوى الهندية"  میں ہے :

"ومتى نوى شيئين مختلفين متساويين في الوكادة والفريضة، ولا رجحان لأحدهما على الآخر بطلا، ومتى ترجح أحدهما على الآخر ثبت الراجح، كذا في محيط السرخسي. فإذا نوى عن قضاء رمضان والنذر كان عن قضاء رمضان استحساناً، وإن نوى النذر المعين والتطوع ليلاً أو نهاراً أو نوى النذر المعين، وكفارة من الليل يقع عن النذر المعين بالإجماع، كذا في السراج الوهاج. ولو نوى قضاء رمضان، وكفارة الظهار كان عن القضاء استحساناً، كذا في فتاوى قاضي خان. وإذا نوى قضاء بعض رمضان، والتطوع يقع عن رمضان في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في الذخيرة".

(کتاب الصوم،1/ 196،المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

تبيين الحقائق میں ہے : 

"ولو نوى صوم القضاء والنفل أو الزكاة والتطوع أو الحج المنذور والتطوع يكون تطوعاً عند محمد؛ لأنهما بطلتا بالتعارض فبقي مطلق النية فصار نفلاً، وعند أبي يوسف يقع عن الأقوى ترجيحاً له عند التعارض، وهو الفرض أو الواجب".

(کتا ب الظھار،3/ 13،المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں