بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نفلی اعتکاف کا حکم


سوال

آپ کے فتوی نمبر 144503102487 میں لکھا ہے: "عام حالات میں مسافر  اور معتکف کے علاوہ دیگر افراد کے لیے مسجد میں کھانا،  پینا اور سونا مکروہ ہے" میں نے سنا ہے کہ جب بھی مسجد میں داخل ہو تو اعتکاف کی نیت کر لینی چاہیے،  اب پوچھنا یہ ہے کہ :

1۔ جب مقامی آدمی صرف فرض نماز پڑھنے کے لیے آئے تو  کیا اعتکاف کی نیت کرسکتا ہے؟ اور  اعتکاف کی نیت کرنے  کے بعد جب وہ  معتکف بن گیا تو کیا  مسجد میں لیٹ سکتا ہے اور سو سکتا ہے؟

2۔ کن چیزوں سے نفلی اعتکاف (جو صرف اس وقت تک کے لیے نیت کی ہے جب تک مسجد میں ہوں) ٹوٹ جاتا ہے؟  اس نفلی اعتکاف میں کیا کام کرنا منع ہیں؟ کسی سے بات کرسکتے ہیں یا دنیاوی بات کرنا منع ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نفلی اعتکاف کے لیے کوئی خاص وقت اور مقدار کی شرط نہیں ہے، نفلی اعتکاف کچھ  لمحوں  کا بھی ہوسکتا ہے،جب بھی اور جتنے وقت کے لیے بھی آدمی مسجد میں داخل ہو نفلی اعتکاف کی نیت کرلے ، اس  کے بعد جتنا وقت مسجد میں گزرے گا آدمی کو نفلی اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔

1۔صورتِ مسئولہ میں مقامی آدمی کا فرض نماز کے لیے آکر اعتکاف کی نیت کرنا نہ صرف  درست  بلکہ باعثِ اجر وثواب  ہے، اس لیے کہ ایک شخص اعتکاف کی نیت کے بعد جب تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا، باقی معتکف بننے کے بعد ضرورت کی بناء پر مسجد میں سونااور لیٹنا وغیرہ جائز ہے، تاہم  مسجد میں بلاضرورت سونے  اور لیٹنے کے لیے اعتکاف کی نیت کرنامسجد کے مقاصد کے خلاف ہے، اس لیے سونے اور لیٹےسے اجتناب کرنا چاہیے، اور یہی افضل ہے۔

2۔   مسجدِ شرعی کی حدود سے نکلتے ہی نفلی اعتکاف  پورا ہوکر ختم ہوجاتا ہے،  پھر دوبارہ مسجد میں آکر از سر نو نفل اعتکاف کی نیت کرکے دوبارہ اعتکاف کیا جاسکتا ہے، مسجد ایک مقدس مقام اور خدائی دربار  ہے، جہاں آداب کا خیال رکھنابہت ضروری ہے، اگرچہ ضرورت کی حد تک مباح کلام کی اجازت دی گئی ہے،تاہم مساجد میں شور شرابہ کرنا، آواز بلند کرنا، لڑائی جھگڑے کرنا، اور حلقے لگا کر غیر دینی محفلیں سجانے سے سخت منع فرمایا گیا ہے، بلکہ اسے قیامت کی نشانیوں میں سے بتلاگیا ہے، لہذا نفلی اعتکاف میں ان چیزوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

 المستدرك على الصحيحين للحاكممیں ہے:

"عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يأتي على الناس زمان يتحلقون في مساجدهم وليس همهم إلا الدنيا ليس لله فيهم حاجة فلا تجالسوهم."

 (، كتاب الرقاق، الرقم: 7916، ج:4: ص:359، دار الكتب العلمية)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: وأقله نفلا ساعة) لقول محمد في الأصل إذا دخل المسجد بنية الاعتكاف فهو معتكف ما أقام تارك له إذا خرج فكان ظاهر الرواية واستنبط المشايخ منه أن الصوم ليس من شرطه على ظاهر الرواية؛ لأن مبنى النفل على المسامحة حتى جازت صلاته قاعدا، أو راكبا مع قدرته على الركوب والنزول ونظر فيه المحقق في فتح القدير بأنه لا يمتنع عند العقل القول بصحة اعتكاف ساعة مع اشتراط الصوم له وإن كان الصوم لا يكون أقل من يوم وحاصله أن من أراد أن يعتكف فليصم سواء كان يريد اعتكاف يوم، أو دونه ولا مانع من اعتبار شرط يكون أطول من مشروطه ومن ادعاه فهو بلا دليل فهذا الاستنباط غير صحيح بلا موجب فالاعتكاف لايقدر شرعًا بكمية لاتصح دونها كالصوم بل كل جزء منه لايفتقر في كونه عبادة إلى الجزء الآخر ولم يستلزم تقدير شرطه تقديره. اهـ."

( كتاب الصوم، باب الإعتكاف، ج:2، ص:323، ط:دار الكتاب الإسلامي)

لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

"وقد ذكر في كتب الفقه أنه يكره ‌لغير ‌المعتكف الأكل والشرب والنوم إلا لغريب لا يجد مأوى من غير المسجد، وقال بعض المشايخ: ينبغي للمرء إذا دخل المسجد أن ينوي الاعتكاف ولو ساعة."

(كتاب الأطعمة، الفصل الثاني، ج:7، ص:260، ط:دار النوادر)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"ويكره النوم والأكل فيه ‌لغير ‌المعتكف، وإذا أراد أن يفعل ذلك ينبغي أن ينوي الاعتكاف فيدخل فيه ويذكر الله تعالى بقدر ما نوى أو يصلي ثم يفعل ما شاء، كذا في السراجية.

 ولا بأس للغريب ولصاحب الدار أن ينام في المسجد في الصحيح من المذهب، والأحسن أن يتورع فلا ينام، كذا في خزانة الفتاوى."

(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج:5، ص:321، ط:دار الفکر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508102703

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں