بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزے میں حیض کا آجانا


سوال

نفلی روزے کی حالت میں اگر عورت کو حیض آ جائے تو کیا اس روزے کا اعادہ ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نفل نماز یا روزہ شروع کردینے کے بعدلازم ہوجاتے ہیں،لازم ہونے کے بعداگر وہ فاسد ہوجائےتوبعد میں اس کی قضا واجب ہوتی ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی عورت نے نفلی روزہ رکھ لیا  پھر صبح صادق کے بعد اسے حیض آجائے تو اس کا روزہ فاسد ہوجائے گااور   حیض کے ایام گزرنے کے  بعد اس روزہ کی قضا کرنا واجب ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"إذا شرع في ‌صوم ‌التطوع لا يجوز له الإفطار بلا عذر لأنه إبطال العمل."

(رد المحتار: 429/2 ط: دار الفكر- بيروت)

بدائع  صنائع میں ہے:

"وأما ‌صوم ‌التطوع: فعليه قضاؤه عندنا."

(بدائع الصنائع 102/2ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومن دخل في صوم التطوع ثم أفسده قضاه كذا في الهداية سواء حصل الفساد بصنعه أو بغير صنعه حتى إذا حاضت الصائمة المتطوعة يجب القضاء في أصح الروايتين كذا في النهاية."

(الفتاویٰ العالمگیریۃ :215/1 ط: دار الفكر بيروت)

فقط واللہ تعالٰی اعلم


فتوی نمبر : 144508101088

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں