بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نفل روزے کی نیت کب تک جائز ہے؟


سوال

نفل روزوں  کی نیت کب تک جائز ہے؟

جواب

نصف نہار شرعی ( یعنی صبح صادق اور غروبِ آفتاب کا بالکل درمیانی وقت) سے پہلے تک نفل روزہ کی نیت کی جاسکتی ہے، بشرط یہ کہ صبح صادق  کے بعد روزہ کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو۔

فتاوی شامی میں ہے:

''(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)، فلا تصح قبل الغروب ولا عنده (إلى الضحوة الكبرى، لا) بعدها، ولا (عندها)، اعتباراً لأكثر اليوم.''

 (كتاب الصوم، ج:2، ص: 377، ط: سعيد)

بہشتی زیور میں ہے:

’’مسئلہ : دو پہر سے ایک گھنٹہ پہلے تک نفل کی نیت کر لینا درست ہے، تو اگر دس بجے دن تک مثلاً روزہ رکھنے کا ارادہ نہ تھا ، لیکن ابھی تک کچھ کھایا پیا نہیں،  پھر جی میں آگیا اور روزہ رکھ لیا تو بھی درست ہے۔‘‘

(حصہ سوم، ص: 141، ط: آرام باغ کراچی)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144512100737

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں