بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

نفل نماز میں قرآن پاک کی تلاوت دیکھ کر کرنا


سوال

کیا نفل نماز میں قرآن پاک کی تلاوت دیکھ کر کی جا سکتی ہے؟

جواب

فرض اور نفل نماز میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھنا جائز نہیں، اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، اس لیے کہ  یہ عمل کثیر  میں داخل ہے، نیز  اس میں نماز کے دوران خارج سے تعلم پایا جاتاہے، اور دورانِ نماز، خارج سے تعلم کی صورت میں نماز فاسد ہوجاتی ہے۔

 بدائع الصنائع میں ہے:

"أن هذا یلقن من المصحف فیکون تعلمًا منه، ألا تری أن من یأخذ من المصحف یسمی متعلماً فصار کما لو تعلم من معلم، وذا یفسد الصلاة فکذا هذا"․ (بدائع الصنائع: ۲/۱۳۳)۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (1 / 623):

"( وقراءته من مصحف ) أي ما فيه قرآن ( مطلقًا ) لأنه تعلم إلا إذا كان حافظًا لما قرأه وقرأ بلا حمل وقيل: لاتفسد إلا بآية".

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة - (2 / 77):

"وإذا قرأ المصلي من المصحف فسدت صلاته، وهذا قول أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لاتفسد. حجتهما: أن عائشة أمرت ذكوان بإمامتها وكان ذكوان يقرأ من المصحف، ولأبي حنيفة وجهان: أحدها: إن حمل المصحف وتقليب الأوراق والنظر فيه والتفكر ليفهم ما فيه فيقرأ عمل كثير، والعمل الكثير مفسد لما نبيّن بعد هذا، وعلى هذا الطريق يفرق الحال بينهما إذا كان المصحف في يديه أو بين يديه أو قرأ من المحراب والله أعلم". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144112200050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں