بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کاروباری نفع میں اللہ تعالی کو شریک بنانا


سوال

ہم تین دوستوں نے مل کر ایک کاروبار شروع کیا، جس میں ہم سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ منافع میں سے دس فیصد اللہ کی راہ میں دیں گے اور باقی منافع ہم سب میں ایک جتنا تقسیم ہوگا۔ اب ہمیں 70 ہزار کا نقصان ہوگیا ہے تو  اگر نقصان کی تلافی کے لیے 5 مہینے تک ہم طے شدہ 10 فیصد اللہ کی راہ میں نہ دیں تو  کیا اس کی گنجائش ہے؟

جواب

کاروبار میں جو نفع کا حصہ  اللہ تعالی   کے لیے خاص کیا جائے، اگر  زبان سے یہ   کہا کہ  اتنا حصہ اللہ تعالی کا ہے تو  اس کی  حیثیت  نذر  کی ہے، اس کی ادائیگی لازم ہے، اس صورت میں اگر نفع کا حساب ماہانہ نہ کریں، بلکہ 6 ماہ یا سال کے بعد کریں اور نقصان کے منہا کرنے کے بعد جو  نفع بچے اس کا دس فیصد ادا کرنا لازم ہوگا، اور اگر ماہانہ  حساب کریں  تو ہر ماہ کے نفع کا دس فیصد ادا کرنا لازم ہوگا۔

آپ حضرات نے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کے حوالے سے جس بات پر اتفاق کیا تھا کہ کتنے عرصے بعد نفع کا حساب کرکے نفع میں سے خرچ کریں گے، اس کے مطابق حساب کرکے دیکھ لیجیے، اگر اس مدت میں بالکل نفع نہیں ہوتا تو شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے صدقہ لازم نہیں ہوگا، اور اگر نفع ہورہاہے تو اس مدت میں جتنا نفع ہوگا اس کا دس فیصد فی سبیل اللہ صرف کرنا لازم ہوگا۔

اور  اگر زبان سے نہیں کہاکہ  اتنا حصہ اللہ تعالی کا ہے،  بلکہ صرف نیت کی کہ اتنا صدقہ غریبوں کو دیں گے یا باہم اتفاق کرتے ہوئے اس کی صراحت کی گئی کہ فی سبیل اللہ صدقے کا یہ حصہ ہم بطورِ نذر لازم نہیں کررہے، بلکہ یہ نفلی صدقے کے طور پر ہم خرچ کریں گے تو  اس کی  حیثیت صدقہ  کی ہے، اس کو مؤخر کیا جاسکتا ہے۔

البحرالرائق میں ہے :

"( قوله: ومن نذر نذرًا مطلقا، أو معلقًا بشرط ووجد وفى به) أي وفى بالمنذور؛ لقوله عليه السلام: {من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى} وهو بإطلاقه يشمل المنجز والمعلق؛ ولأن المعلق بالشرط كالمنجز عنده أطلقه، فشمل ما إذا علقه بشرط يريد كونه أو لا، وعن أبي حنيفة أنه رجع عنه، فقال: إن فعلت كذا فعلي حجة، أو صوم سنة، أو صدقة ما أملكه أجزأه عن ذلك كفارة يمين، وهو قول محمد، ويخرج عن العهدة بالوفاء بما سمى أيضًا إذا كان شرطًا لايريد كونه؛ لأن فيه معنى اليمين وهو المنع وهو بظاهره نذر، فيتخير ويميل إلى أي الجهتين شاء، بخلاف ما إذا كان شرطًا يريد كونه كقوله: إن شفى الله مريضي لانعدام معنى اليمين فيه، قال في الهداية: وهذا التفصيل هو الصحيح، وبه كان يفتي إسماعيل الزاهد، كما في الظهيرية. وقال الولوالجي: مشايخ بلخ وبخارى يفتون بهذا، وهو اختيار شمس الأئمة - ولكثرة البلوى في هذا الزمان -". (12/198)

"اعلم أن الصدقة تستحب بفاضل عن کفایته وکفایة من يمونه ..." الخ (شامي ۲؍۳۵۷ کراچی) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144111201741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں