بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1444ھ 04 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفل روزہ میں رمضان کی قضا کرنے سے کیا قضا اور نفل دونوں ادا ہوجائیں گے؟


سوال

کیا شوال کے چھ روزوں کے ساتھ رمضان کے روزوں کی ( جوقضاء ہوگئے ہیں) نیت کرسکتے ہیں یا الگ الگ رکھنا ہوگا؟ جیسے پہلے فرض روزوں کی قضاء پوری کرکے پھر  شوال کے 6 روزے مکمل کریں۔

جواب

واضح رہے کہ نفل اور فرض کی قضا کا روزہ  الگ  الگ ہے اور ہر ایک کی  مستقل حیثیت ہے،لہذا صورت مسئولہ میں دونوں کو ایک ساتھ جمع نہیں کیا جاسکتا ہے، ایک روزہ میں نفل اورقضا دونوں  کی نیت نہیں کرسکتے ،شوال کے چھ روزوں کے ساتھ اگر قضا روزوں کی نیت کرے    تو وہ صرف قضا ہی شمار ہو ں گے، شوال کے چھ روزے ادا نہیں ہوں گے، اصولی طور پر ایسے آدمی کے لیے بہتر یہ ہے کہ پہلے فرض کی قضا کرے پھر اس کے بعد نفل کا روزہ رکھے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا نوى قضاء بعض رمضان، والتطوع يقع عن رمضان في قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى -، وهو رواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - كذا في الذخيرة."

[كتاب الصوم، ج:1، ص:197، ط: دار الفكر بيروت]

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310100700

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں