بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نفع رکھ کر قرض وصول کرنے کی ایک صورت


سوال

 میں مٹی ریتی بجری وغیرہ کا کام کرتا ہوں،  اب مجھے ایک کمپنی سے 5 ہزار ٹرپس کا آرڈر ملا ہے،  لیکن اس کے پیسے میرے پاس نہیں  ہیں، اور میں جس جگہ سے یہ مٹی  خریدتا ہوں   وہ ادھار پہ دے نہیں رہا اور نقد میرے پاس نہیں ہے، اب اس درمیان ایک دوسرا بندہ جو دھکے والے کا ہم سایہ ہے دوست ہے، وہ میرا ضامن بنا ہوا ہے اور دھکے والوں کو بولا ہے کہ اسے  جیتنے ٹرپ چاہییں  دے دو،  اس کا ذمہ وار میں ہوں،  اس کے پیسے میں بھروں گا، اس کو جب پیسہ آگے سے وصول ہو جائیں  مجھے دے  گا۔

اب  دھکے کا عام ریٹ ہے  6300، جو ہر کسی کے  لیے ہے،  چاہے کوئی بھی مال اٹھا لے،  ہر کسی کے  لیے چھ ہزار تین سو ہے، اب اس میں  جو  میرا  ضامن بنا ہوا ہے دھکے والے اس کو میرے ٹرپس میں دوستی کی خاطر، رشتہ داری کی خاطر دو سو یا تین   سوروپے ہر  ٹرپ پر چھوڑ رہے ہیں، لیکن میں اس کو جب پیسے دیتا ہوں 6300 کے حساب سے دیتا ہوں جو دھکے کا عام ریٹ ہے سب  کے ۔ اب  یہ میرا کاروبار تو سود میں نہیں آتا   ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں سائل جس جگہ سے  مٹی خرید رہا ہے ،  سائل اس مٹی والے کو   رقم ادا نہیں کر رہا،  بلکہ اس  کی طرف سے کوئی اور شخص رقم ادا کر رہا ہے ؛ لہذا   یہ رقم سائل پر اس کی طرف سے قرضہ ہے، لہذا سائل کی طرف سے جتنی رقم یہ ضامن شخص  دھکے والے کو ادا کرے گا اتنا ہی رقم اس کی طرف سے سائل کے ذمے   قرض ہوگی۔ اور   وہ سائل سے بعد میں اتنی ہی رقم وصول کرنے کا حق دار ہے،  اس سے زیادہ وصول کرنا سود ہوگا  ؛ لہٰذا اگر دھکے والا اس شخص سے ٹرپ کے اصل ریٹ  (6300 روپے ) سے کم وصول کرتا ہے تو  یہ (ضامن )شخص سائل سے  پوری  رقم یعنی 6300 روپے  وصول کرنے کا حق دار نہیں ہے، بلکہ جتنی رقم اس نے ادا کی اتنی ہی وصول کرے گا۔ اور اب تک جتنی زائد رقم وصول کرچکا ہے، وہ اس پر سائل کو لوٹانا لازم ہے۔

اور  اگر وہ شخص سائل سے زائد رقم ہی وصول کرنا چاہتا  ہو تو اس  کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے  کہ وہ شخص پہلے دھکے والے سے خود   مٹی کا ٹرپ خریدے اور  اس  پر قبضہ بھی کر لے  اور قبضہ کر لینے کے بعد،  پھر جو قیمت سائل  کے  ساتھ  طے ہوجائے یا دونوں کے درمیان وعدۂ  بیع کے اعتبار سے جو قیمت طے ہوچکی ہو ، اس قیمت میں   سائل کو بیچ دے۔ البتہ   اس صورت میں  اس ضامن شخص کا  سائل کو بیچنے سے پہلے مٹی اپنے قبضہ میں لینا ضروری ہوگا، اس کے بغیر یہ بیع  شرعاً درست نہ ہوگی۔

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".

(أخرجه البيهقي في الكبرى في«باب كل قرض جر منفعة فهو ربا» (5/ 571) برقم (10933)، ط. دار الكتب العلمية، بيروت، الطبعة: الثالثة، 1424 هـ = 2003م)

"عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليًّا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كل قرض جر منفعة فهو ربا".

( أخرجه الحارث في مسنده كما في المطالب العالية:«باب الزجر عن القرض إذا جر منفعة» (7/ 326) برقم (1440)،ط. ار العاصمة ، دار الغيث – السعودية، الطبعة: الأولى، 1419.)

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام   (5/ 166)،ط. سعيد،كراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144301200221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں