بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

نفع پر قرض دینے کا حکم


سوال

 میرے پاس 10 لاکھ روپے تھے 5 لاکھ بینک میں اور 5 لاکھ روپے میرے گھر میں تھے، پھر میرے ساڑو نے مجھ  سے 10 لاکھ روپے قرض مانگا اور جب میں اسے قرض دینے کےلیے 5 لاکھ  روپے  بینک سے نکالا   تو  وہ پیسے مجھ سے راستہ میں چوری ہوگئے، اس وجہ سے  صرف  5 لاکھ  روپے  جو گھر میں تھے میں نے اسے دے کر 20 فیصد منافع کی شرط لگائی  لیکن وہ دس فیصد  منافع دینے پر راضی ہوگیا، پھر اس نے ایک مہینے کے اندر اندر 3 لاکھ روپے واپس کیے، جب کہ  بقیہ 2لاکھ کا ایک ہفتہ کے اندر اندر  وعدہ کرکے ڈھائی سال کے بعد ادا کیے۔

پھر میں نے  اس سے ایک لاکھ روپے  قرض مانگا ،  اس نے مجھے  85 ہزار روپے دےکر کہا کہ باقی 15 ہزار کچھ ٹائم میں دے دوں گا،  لیکن ابھی تک نہیں دیا ، تو کیا یہ  پیسے 85 ہزار میرا حق بنتاہے کہ نہیں؟ اسی طرح جو منافع اس نے میرے پیسے سے کمایا ہے، کیا اس میں میرا حصہ ہے کہ نہیں؟حالانکہ  5لاکھ روپے قرض لیتے وقت  مجھے منافع کے دس فیصد دینے پر راضی ہوگیا تھا۔

نوٹ: جو ایک لاکھ روپے میں  سے میں نے  85 ہزار لیا ہے وہ بطور حکمت کی لیا ہے،  تاکہ کسی طریقہ سے اپنا منافع کا حصہ وصول کرسکوں، کیوں کہ ویسے دینے کو وہ تیار نہیں ، کیا یہ حلال ہے میرے لیے؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں  سائل کا اپنے ساڑو سے دیے  ہوئے قرض پر نفع  لینا سود ہونے  کی وجہ سے   ناجائز اور حرام ہے،سائل صرف اپنی اصل رقم واپس لینے کا حق دار تھا ،جووہ وصول کرچکا ہے  اسی طرح  وہ  پیسے(85ہزار)   جو سائل نے  اپنے ساڑو سے قرض کے طور پر لیا ہے ،   اسے  واپس کرنا ضروری ہے۔  

حدیث  مبارک میں ہے:

"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ".

[الصحیح لمسلم،باب لعن آكل الربا ومؤكله،رقم الحديث:1598،ط:دار احیاء التراث العربي]

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: کلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي: إذا کان مشروطًا کما علم مما نقله عن البحر."

(مطلب کل قرض جر نفعًا حرام، فصل في القرض، باب المرابحة والتولیة، ص:166، ج:5، ط:سعید)

اعلاء السنن میں ہے:

"وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ فہو حرام بلا خلاف، قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃً أو ہدیۃً، فأسلف علی ذٰلک أن أخذ الزیادۃ علی ذٰلک ربا، قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: کل قرض جر منفعۃً فہو ربا".

[کتاب الحوالۃ / باب کل قرض جر منفعة فهو ربا ج:14ص:513ط: إدارۃ القرآن کراچی]

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101794

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں