بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نفع ونقصان ایک شریک کا اپنے ذمہ لینے کا حکم


سوال

دوبندوں نے مشترکہ ٹینکر لیا ،ایک شریک نے دوسرے شریک سے کہا کہ نفع نقصان میرا ،بس میں تیرے گھر میں مہینے میں 4سے 5 ٹینکر ڈالوں گا۔ کیا یہ صورت جائز ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں شراکت کی  مذکورہ صورت درست نہیں ہے۔  اس کی جائز صورت یہ  ہے کہ دونوں شریک نفع ونقصان میں شریک ہوں، اور  نفع کی تعیین، نفع کے  فیصد/حصص کے اعتبار سے کی جائے گی،مثلاً نفع دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا، یا کسی ایک فریق کے لیے ساٹھ فیصد اور دوسرے کے لیے چالیس فیصد یادونوں کے سرمایہ کے بقدرنفع تقسیم کیاجائے، یااگر دونوں شریک کام کرتے ہیں  اور ایک شریک زیادہ محنت کرتاہے تو اس کے لیے نفع کی شرح باہمی رضامندی سے بڑھانادرست ہے۔

نیز نقصان کی صورت میں سب سے پہلے نقصان منافع سے پورا کیا جائے گا، اگر منافع نہ ہو تو پھر دونوں شریک اپنی رقم کے تناسب سے نقصان کے ذمہ دار ہوں گے۔

البحرالرائق میں ہے :

"(قوله: وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه) وهو التفاضل في المال والتساوي في الربح وقال زفر والشافعي: لايجوز؛ لأن التفاضل فيه يؤدي إلى ربح ما لم يضمن فإن المال إذا كان نصفين والربح أثلاثاً فصاحب الزيادة يستحقها بلا ضمان؛ إذ الضمان بقدر رأس المال؛ لأن الشركة عندهما في الربح كالشركة في الأصل، ولهذا يشترطان الخلط فصار ربح المال بمنزلة نماء الأعيان؛ فيستحق بقدر الملك في الأصل.ولنا قوله عليه السلام: الربح على ما شرطا، والوضيعة على قدر المالين. ولم يفصل؛ ولأن الربح كما يستحق بالمال يستحق بالعمل كما في المضاربة، وقد يكون أحدهما أحذق وأهدى أو أكثر عملاً فلايرضى بالمساواة؛ فمست الحاجة إلى التفاضل. قيد بالشركة في الربح؛ لأن اشتراط الربح كله لأحدهما غير صحيح؛ لأنه يخرج العقد به من الشركة، ومن المضاربة أيضاً إلى قرض باشتراطه للعامل، أو إلى بضاعة باشتراطه لرب المال، وهذا العقد يشبه المضاربة من حيث أنه يعمل في مال الشريك ويشبه الشركة اسماً وعملاً فإنهما يعملان معاً، فعملنا بشبه المضاربة وقلنا: يصح اشتراط الربح من غير ضمان وبشبه الشركة حتى لاتبطل باشتراط العمل عليهما. وقد أطلق المصنف تبعاً للهداية جواز التفاضل في الربح مع التساوي في المال، وقيده في التبيين وفتح القدير بأن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملاً".

(كتاب الشركة، ج: ۵، صفحہ: ۱۸۸، ط:  دار المعرفة)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجراً ؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان، والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله (قوله: فالشركة فاسدة)؛ لأنه في معنى بع منافع دابتي ليكون الأجر بيننا، فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجاناً، فتح".

(كتاب الشركة، فصل في الشركة الفاسدة، ج: ۴، صفحہ: ۳۲۶، ط: ایچ، ایم، سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"اشترکا فجاء أحدهما بألف والآخر بألفین علی أن الربح والوضیعة نصفان، فالعقد جائز، والشرط في حق الوضیعة باطل، فإن عملا وربحا، فالربح علی ما شرطا، وإن خسرا فالخسران علی قدر رأس في مالهما."

(کتاب الشرکة، الباب الثالث ، الفصل الثاني، 2 / 320، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102463

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں