بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

نفع نقصان کی بنیاد پر بینک میں اکاؤنٹ کھولنا جائز نہیں ہے


سوال

بینک میں نفع نقصان کی بنیاد پر اکاؤنٹ کھولنا اور اس سے حاصل  شدہ نفع کے بارے میں  اسلام کا کیا حکم ہے؟  اس میں کوئی رقم فکس نہیں ہوتی جو آپ کے اکاؤنٹ  میں ہے  اسی حساب سے نفع یا نقصان میں شامل ہوں گے۔

جواب

واضح رہے کہ بینک میں نفع نقصان کی بنیاد پر اکاؤنٹ کھوکنا جائز نہیں ہے اور نہ اس سے حاصل شدہ نفع حلال ہے، بلکہ وہ نفع کے نام سے سود ہی ہے،  جو کہ ناجائز اور حرام ہے، لہٰذا اس سے اجتناب لازم اور ضروری ہے۔

مشكاة المصابيح ميں  ہے:

"وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه إن آخر ما نزلت آية الربا وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض ولم يفسرها لنا فدعوا الربا والريبة. رواه ابن ماجه والدارمي".

(مشكاة المصابيح،كتاب البيوع،باب الربا ، ج:2، ص:860،  ط:المكتب الاسلامي)

وفیه أیضا:

"عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌آ كل ‌الربا وموكله وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء."

(مشكاة المصابيح ،باب الربوا، ص: 243، ط: قدیمی)

ترجمہ:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سُود کھانے والے ، کھلانے والے ، (سُود کا حساب) لکھنے والے  اورسود پر گواہ بننے والے پر لعنت کی ہے۔ "

فتاوی شامی میں ہے:

"(القرض)هوعقد مخصوص يرد على دفع مثلي ليرد مثله...(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا..."(وكان عليه ‌مثل ‌ما ‌قبض) فان قضاه اجود بلا شرط جاز و يجبر الدائن على قبول الاجود و قيل لا هذا هو الصحيح."

(‌‌‌‌باب المرابحة والتولية، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:161، 165،166 ط:سعيد)

وفیه أیضا:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر."

(کتاب البیوع،فصل فی القرض،ج:5،ص:166،ط:سعید)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"ونهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر منفعة وسماه ربا."

(كتاب الصرف، باب القرض و الصرف فيه، ج 14، ص 35، ط :دار المعرفة بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز ۔۔۔ أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب."

( كتاب القرض، فصل في الشروط، ج:10، ص:597، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100681

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں